دینی نصاب

by Other Authors

Page 198 of 377

دینی نصاب — Page 198

قرار دیتا ہے۔اب اے خدا! تو جو حقیقت امر سے آگاہ ہے تو ہم دونوں میں سچا سا فیصلہ فرما اور ہم میں سے جو فریق اپنے دعوی میں جھوٹا ہے اس کو سچے فریق کی زندگی میں ایک سال کے اندر اندر عذاب میں مبتلا کر۔اور حضرت مرزا صاحب نے لکھا کہ اسی طرح میں بھی دُعا کرونگا اور پھر ہم دیکھیں گے کہ خدا کس کو عذاب میں مبتلا کرتا ہے اور کس کی عزت ظاہر ہوتی ہے مگر افسوس عیسائیوں میں سے اس مقابلہ کیلئے بھی کوئی نہ نکلا۔( تبلیغ رسالت) مسٹر والٹر آنجہانی جو ایک امریکن پادری تھا اور جس نے سلسلہ احمدیہ کی ایک مختصری تاریخ انگریزی زبان میں لکھی ہے اس چیلنج کا ذکر کر کے لکھتا ہے کہ دراصل مسیحی لوگ کسی کے متعلق بد دُعا کرنے اور اس کی ہلاکت کے خواہشمند ہونے کے مقام سے بالا تر ہیں کیونکہ وہ مذہباً کسی کی بھی تباہی اور ذلت نہیں چاہتے۔اس لئے کوئی مسیحی مرزا صاحب کے مقابلہ پر نہیں آیا۔خوب! بہت خوب ! مگر حل طلب امر یہ رہ جاتا ہے کہ آتھم کی میعاد پر شہروں میں جلوس نکلوانے اور سوانگ بھرنے اور پھر اس کی موت پر غضب میں آکر اقدام قتل کے سراسر جھوٹے اور بناوٹی مقدمے کھڑے کرنے اور حضرت مرزا صاحب کو ماخوذ کرا کے پھانسی دلوانے یا عمر بھر کیلئے کالے پانی بھیجوانے وغیرہ کے لئے تو اے مسیحیت کے حلیم بڑ و ! تم تیار ہو اور تمہارا مذہب تمہارے ہاتھ کو نہیں روکتا۔مگر اسلام اور مسیحیت میں سچا سچا فیصلہ کرانے کیلئے خدا کے حضور دُعا کیلئے ہاتھ اٹھاتے ہوئے تمہیں اپنا مذہب یاد آ جاتا ہے!! تم نے اسلام اور مقدس بائی اسلام کے خلاف تقریر وتحریر میں زہر اُگلنے اور گالیوں سے اپنی کتابوں کے ورق کے ورق سیاہ کر دینے کو تو جائز کر رکھا ہے اور کوئی موقعہ اسلام کو نقصان پہنچانے کا ہاتھ سے نہیں جانے دیتے مگر جہاں دینی تنازعات کا مقدمہ خدا کی عدالت میں پیش کیا جاتا ہے وہاں تمہیں ایک گال پر طمانچہ کھا کر مارنے والے کی طرف دوسرا گال پھیر دینے کے مسئلہ پر عمل کرنے کی سوجھتی ہے انہی باتوں کی وجہ سے تو حدیث میں تمہارا وہ نام رکھا گیا جو رکھا گیا۔پھر یہ تو بتاؤ کہ بھلا مباہلہ میں تو مسیحیت کی 198