دینی نصاب

by Other Authors

Page 197 of 377

دینی نصاب — Page 197

کر دی۔چنانچہ ابھی اس کی موت پر زیادہ عرصہ نہ گذرا تھا کہ ڈاکٹر مارٹن کلارک نے جو امرتسر کا ایک نہایت مشہور عیسائی مشنری تھا اور امرتسر کے مباحثہ میں بھی آتھم کا معین و مدد گار رہا تھا۔حضرت مرزا صاحب پر اقدام قتل کا ایک جھوٹا مقدمہ قائم کردیا اور دعویٰ کیا کہ مرزا صاحب نے ایک شخص عبدالحمید جبلی کو میرے قتل کیلئے امرتسر بھیجا ہے اور پادری صاحب موصوف نے لالچ اور خوف دلا کر عبدالحمید مذکور سے اپنے مفید مطلب بیان بھی دلواد یا لیکن پیشتر اس کے کہ یہ مقدمہ پیش ہو اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا صاحب کو الہام کے ذریعہ خبر دی کہ آپ کے خلاف ایک مقدمہ ہونے والا ہے مگر اس کا انجام بریت ہے۔چنانچہ آپ نے اس الہام کی اشاعت فرما دی۔اس کے بعد اس مقدمہ کی کارروائی شروع ہوئی اور آریوں اور بعض مسلمانوں نے عیسائیوں کی امداد کی اور کھلم کھلا اُن کا ساتھ دیا۔آریہ وکیلوں نے مارٹن کلارک کی طرف سے مفت مقدمہ کی پیروی کی اور بعض مسلمان مولویوں نے بڑھ بڑھ کر حضرت مرزا صاحب کے خلاف شہادتیں دیں مگر اللہ تعالیٰ نے کپتان ڈگلس ڈپٹی کمشنر گورداسپور پر حق کھول دیا اور بالآخر نتیجہ یہ ہوا کہ عبدالحمید نے کپتان ڈگلس کے پاؤں پر گر کر اس بات کا اقرار کیا کہ یہ مقدمہ بناوٹی ہے اور مجھے پادریوں نے سکھایا تھا کہ اس اس قسم کا بیان دو۔پس آپ اللہ تعالیٰ کی بشارت کے مطابق عزت کے ساتھ بری کئے گئے اور عیسائیوں پادریوں کے ماتھے پر ذلت اور شکست کے علاوہ جھوٹ اور سازش اور ارادہ قتل کا سیاہ داغ لگ گیا اور اسلام کو ایک نمایاں فتح نصیب ہوئی۔(کتاب البریۃ ) جب حضرت مرزا صاحب نے دیکھا کہ عیسائیوں میں سے کوئی شخص دُعا اور افاضہ روحانی کے مقابلہ کیلئے آگے نہیں آتا تو آپ نے اُن کو مباہلہ کیلئے بلایا۔یعنی عیسائیوں کو دعوت دی کہ اگر تمہیں اپنے مذہب کے سچا ہونے کا یقین ہے تو میرے ساتھ مباہلہ کرلو۔یعنی میرے مقابل پر آکر یہ دعا کرو کہ اے ہمارے خدا ! ہم مسیحیت کو سچا سمجھتے ہیں اور اسلام کو ایک جھوٹا مذہب جانتے ہیں اور ہما رائد مقابل مرزا غلام احمد قادیانی اسلام کو سچ سمجھتا اور مسیحیت کے عقائد کو باطل 197