دینی نصاب

by Other Authors

Page 196 of 377

دینی نصاب — Page 196

میں اس کی قسم کے بعد جس کی میرے ہی الہام پر بناء ہے جھوٹا نکلوں“۔تبلیغ رسالت جلد چہارم) ناظرین! قدرت الہی کا تماشہ دیکھیں کہ اس آخری اشتہار پر ابھی سات ماہ نہیں گذرے تھے کہ آتھم کی صف ۲۷ جولائی ۱۸۹۶ء کو صفیہ دنیا سے ہمیشہ کیلئے لپیٹ دی گئی۔آتھم کے مرنے کے بعد بھی حضرت مرزا صاحب نے مخالفین پر اتمام حجت کرنے کیلئے مسیحیوں بلکہ تمام مخالفین کو مخاطب کیا اور لکھا کہ :- اگر اب تک کسی عیسائی کو آتھم کے اس افتراء پر شک ہو تو آسمانی شہادت سے رفع شک کرالیوے۔آتھم تو پیشگوئی کے مطابق فوت ہو گیا اب وہ اپنے تئیں اُس کا قائم مقام ٹھہرا کر آتھم کے مقدمہ میں قسم کھا لیوے۔اس مضمون سے کہ آتھم پیشگوئی کی عظمت سے نہیں ڈرا بلکہ اس پر یہ چار حملے ہوئے تھے ( یعنی اسکا ڈر اس لئے تھا کہ گویا حضرت مرزا صاحب کی طرف سے اُس کے قتل کیلئے کبھی تلوار وں والے آدمی بھیجے گئے اور کبھی سانپ چھوڑے گئے۔کبھی کتے سکھا کر بھیجے گئے۔وغیرہ وغیرہ۔نعوذ باللہ من ذالک۔ناقل ) اگر یہ قسم کھانے والا بھی ایک سال تک بچ گیا تو دیکھو میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ میں اپنے ہاتھ سے شائع کر دونگا کہ میری پیشگوئی غلط نکلی۔اس قسم کے ساتھ کوئی شرط نہ ہو گی۔یہ نہایت صاف فیصلہ ہو جائے گا اور جو شخص خدا کے نزد یک باطل پر ہے اُس کا بطلان کھل جائے گا۔“ ( انجام آتھم صفحہ ۱۵) مگر اس پر بھی میسحیت کا کوئی بہادر سپوت مردمیدان بن کر سامنے نہ آیا۔اللہ اکبرا یہ کتنی بڑی ذلت اور شکست تھی جو اسلام کے مقابلہ میں میسحیت کو پہنچی۔مگر جس کی آنکھ نہ ہو وہ کیسے دیکھے۔آتھم کی اس ذلت کی موت نے عیسائی کیمپ میں عداوت اور حسد کی شدید آگ مشتعل 196