دینی نصاب — Page 186
حضرت مرزا صاحب کا مسیحیت سے مقابلہ پہلے ہم مسیحیت کو لیتے ہیں کیونکہ کئی لحاظ سے اسکا حق مقدم ہے سو جانا چاہیئے کہ مسیحیت کی بنیاد تین اصولوں پر ہے :۔اوّل تثلیث۔یعنی یہ عقیدہ کہ خدا کے تین اقنوم ہیں (۱) باپ جو عرف میں خدا کہلاتا ہے۔(۲) بیٹا یعنی مسیح ناصری جو جامہ انسانیت میں دنیا پر اُترا اور (۳) روح القدس جو گویا بیٹے اور باپ کے درمیان واسطہ ہے۔عیسائیوں کے نزدیک یہ تین خدا الگ الگ اور مستقل خدا ہیں۔مگر پھر بھی بزعم مسیحی صاحبان خدا تین نہیں ہیں بلکہ ایک ہی خدا ہے۔دوسرا اصول مسیحیت کا الوہیت مسیح ہے یعنی یہ عقیدہ کی مسیح ناصری جو دنیا میں نازل ہواوہ گو انسان کے لباس میں اترا تھا مگر دراصل وہ خدا یعنی خدا کا بیٹا تھا اور خدا نے اُسے اس لئے بھیجا تھا کہ وہ اپنی قربانی سے بنی نوع انسان کو گناہ سے نجات دے۔تیسرا اصولی عقیدہ اس مذہب کا کفارہ ہے۔یعنی یہ کہ مسیح ناصری نے صلیبی موت جو موسوی شریعت کے مطابق ایک لعنتی موت تھی بنی نوع انسان کیلئے برداشت کی اور اس طرح تمام ان لوگوں کے گناہ جو اس کی صلیبی موت پر ایمان لائے اُس نے اپنے سر پر اٹھالئے اور وہ اس لعنت کے بوجھ کے نیچے تین دن تک دبا رہا۔اس کے بعد وہ زندہ ہوکر پھر پہلے کی طرح اپنے باپ خدا کے دائیں ہاتھ آسمان پر جا بیٹھا۔ان اصولی عقائد کے ضمن میں مسیحیوں کا یہ عقیدہ بھی ہے کہ رحم بلا مبادلہ یعنی تو بہ واستغفار سے گناہ معاف کر دینا خدا کی صفت عدل کے خلاف ہے اور یہ کہ انسان کو گناہ کا مادہ آدم و حوا سے ورثہ میں ملا ہے پس کوئی بشر کلیۂ گناہ سے پاک نہیں ہوسکتا اور چونکہ دوسری طرف گناہ معاف نہیں ہوتا لہذا ضروری ہوا کہ نجات کیلئے کسی اور بیرونی چیز کی حاجت پیش آئے اور یہ وہی کفارہ یعنی مسیح کی صلیبی موت ہے۔پھر انکا یہ بھی عقیدہ ہے کہ شریعت ایک لعنت ہے جس سے 186