دینی نصاب — Page 187
ہمیں مسیح نے آزاد کر دیا ہے وغیرہ وغیرہ۔اس تمہیدی نوٹ کے بعد اس عظیم الشان اور مقدس جنگ کا ذکر کیا جاتا ہے جو حضرت مرزا صاحب اور مسیحی دنیا کے درمیان واقع ہوئی اور جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے مطابق صلیب ٹوٹ گئی اور قتل دقبال کے آثار ظاہر ہو گئے۔یوں تو حضرت مرزا صاحب اوائل عمر سے مسیحیوں کے ساتھ اس روحانی جنگ کا کچھ نہ کچھ سلسلہ جاری رکھتے تھے چنانچہ اس امر کی معتبر شہادت موجود ہے کہ جب آپ بالکل نوجوان تھے اور سیالکوٹ میں ملازم تھے۔پادری بٹلر وغیرہ کے ساتھ آپ کی مذہبی گفتگو ہوتی رہتی تھی اور پھر براہین احمدیہ کا اشتہار بھی گویا سب عیسائیوں کیلئے چیلنج تھا مگر خاص طور پر ۸۸۴اء کے قریب جبکہ براہین احمدیہ کا چوتھا حصہ طبع ہوا آپ نے انگریزی اور اُردو میں ایک اشتہار ہیں ہزار کی تعداد میں چھپوا کر شائع کیا اور اس اشتہار کی اشاعت کے سلسلہ کو ایسا وسیع کیا کہ یورپ کے مختلف ممالک اور امریکہ اور دوسرے ممالک میں بھی کثرت کے ساتھ تقسیم کیا اور تمام بڑے بڑے آدمیوں کو جن میں شہنشاہ ، بادشاہ، سلطنتوں کے پریذیڈنٹ اور پھر مد تبر ان ملک اور سیاسی لیڈر اور فلاسفر اور مذہبی پیشوا بھی شامل تھے بذریعہ رجسٹر ڈ خطوط بھجوایا اور گو اس اشتہار میں سب مذاہب کے لوگ مخاطب تھے لیکن مسیحی مذہب کے متبعین میں خصوصیت کے ساتھ تقسیم کیا گیا۔اس اشتہار میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے مسیح ناصری کے قدم پر اس صدی کا مجد د بنا کر بھیجا ہے اور میں سب دنیا کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ خدا تک پہنچانے والا مذہب صرف اسلام ہی ہے جو شخص میرے اس دعویٰ کی تصدیق چاہے وہ مجھ سے ہر طرح تسلی کر سکتا ہے اور حق کے طالبوں کو خدائی نشانات بھی جمہوری دکھائے جاویں گے۔وغیرہ وغیرہ۔(دیکھو تبلیغ رسالت یعنی مجموعہ اشتہارات جلد اوّل) اس اشتہار کے قریب کے زمانہ میں ہی آپ نے ایک مطبوعہ خط بھی مشہور پادری صاحبان و آریه صاحبان و بر همو صاحبان و نیچری صاحبان و مخالف مولوی صاحبان کے نام ارسال کیا اور 187