دینی نصاب — Page 174
بلکہ اہل بصیرت کے نزدیک تو وہ مردوں میں شامل ہو چکا۔جس کی آنکھیں ہوں دیکھے۔تیسرا سوال یہ ہے کہ دجال کے پکھلنے سے کیا مراد ہے؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ دجال کے پگھلنے سے یہ مراد ہے کہ خدا تعالیٰ مسیح موعود کو ایسا رعب اور ایسی روحانی طاقت عطا کرے گا کہ اس کے مقابل پر دقبال گویا خود بخود تحلیل ہونا شروع ہو جائے گا اور اُس کے ہاتھ پاؤں ھیلے پڑ جائیں گے اور مسیح موعود کے سامنے میدان میں نکلنے سے ڈرے گا اور خدا تعالیٰ مسیح موعود کے زمانہ میں ایسی مخفی طاقتوں کو حرکت میں لائے گا کہ جو دقبال کا اندر ہی اندر خاتمہ کر دینگی۔چنانچہ جیسا کہ آگے چل کر بیان کیا جائے گا اس کے بھی آثار ظاہر ہورہے ہیں۔چوتھا سوال یہ ہے کہ باب لڈ سے کیا مراد ہے؟ سوجانا چاہیئے کہ بعض محدثین جو یہ کہتے ہیں کہ لڈ ایک جگہ کا نام ہے جو دمشق کے پاس ہے یہ محض ان کا خیال ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باب لد کی تعیین نہیں فرمائی تو ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہم معقول طور پر اس کی کوئی تاویل کریں۔سو ہم کہتے ہیں کہ کل ایک عربی لفظ ہے جو اللہ کے جمع ہے جس کے معنے ہیں جھگڑا اور مجادلہ کرنے والا۔جیسا کہ قرآن شریف میں آیا ہے وَهُوَ اللُّ الْخِصَامِ (یعنی وہ سب جھگڑنے والوں سے زیادہ جھگڑالو ہے ) نیز فرمایا قَوْمًا لُدا ( یعنی جھگڑالوقوم ) پس لفظی طور پر باب لڈ کے یہ معنے ہوئے کہ ” جھگڑا اور مجادلہ کرنے والوں کا دروازہ “۔اور اس لحاظ سے حدیث نبوی کے یہ معنے بنتے ہیں کہ مسیح موعود درقبال کو مجادلہ اور جھگڑا کرنے والوں کے دروازہ پر قتل کرے گا یعنی دقبال مسیح موعود سے بھاگے گا لیکن آخر مجادلہ کرنے والوں کے دروازہ کے پاس مسیح موعود اُسے آدبائے گا اور اُسے قتل کر دیگا۔اب اس تشریح کے ماتحت کوئی اشکال باقی نہیں رہتا۔کیونکہ اس کلام کے صاف طور پر یہ معنے ہیں کہ دجال مسیح موعود کے سامنے آنے سے بھاگے گالیکن مسیح موعود اسکا تعاقب کرے گا۔اور آخر مجادلہ و مناظرہ کے میدان میں اُسے آدبائے گا اور اسے مارڈالے گا۔یعنی اس کا قتل تلوار کا قتل نہ ہوگا بلکہ دلائل اور براہین کا قتل ہوگا۔وھو المراد۔66 174