دینی نصاب — Page 95
پانے والے لوگ تھے۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء بغیر کھانا کھائے زندہ نہیں رہ سکتے۔خدائے تعالیٰ کا یہ کہنا کہ مسیح ابن مریم کھانا کھایا کرتے تھے صاف بتلاتا ہے کہ اب وہ کھانا نہیں کھاتے اور اب وہ زندہ نہیں ہیں۔چوتھی دلیل :- وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَأَبِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ ( سورة آل عمران : ۱۴۵) ط اور محمد ” صرف ایک رسول ہیں۔اس سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں۔پس اگر وہ وفات پا جائے یا قتل کیا جائے تو کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل کوٹ جاؤ گے؟ استدلال :- اس آیت میں صاف بتلایا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آنے والے سب رسول فوت ہو چکے ہیں۔قد خَلَتْ کے لفظی معنی ہیں۔گزر چکے ہیں اور گزرنے سے مراد اس جگہ وفات پانے کے ہی ہیں۔کیونکہ گزرنے کی صرف دوصورتیں اس آیت میں بیان ہوئی ہیں۔ایک موت اور دوسرے قتل کیا جانا۔اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو ضرور ان کا استثناء کر دیا جاتا۔پھر انہیں الفاظ میں سورۃ مائدہ آیت ۷۶ ( دلیل سوم ) میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام سے پہلے آنے والے سب انبیاء گذر چکے ہیں۔جس طرح باقی انبیاء اس جہاں سے گذر گئے اسی طرح حضرت مسیح ابن مریم بھی اس جہان سے گذر گئے اور اب ہرگز زندہ نہیں ہیں۔مندرجہ بالا آیات سے یہ بات واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے ہیں اور وہ ہرگز اس خا کی جسم کے ساتھ آسمان پر اُٹھائے نہیں گئے۔انسانوں کے لئے تو خُدا کا یہی قانون ہے کہ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيْهَا تَمُوْتُوْنَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ۔(سورۃ اعراف: ۲۶) 95