دینی نصاب

by Other Authors

Page 94 of 377

دینی نصاب — Page 94

میں ہوا ہے وہ (نعوذ باللہ ) غلط ہے۔قرآن کریم کی ترتیب کو نہ غلط قرار دیا جاسکتا ہے اور نہ بدلا جاسکتا ہے۔غرض رفع کے لفظ کے جو معنی بھی کئے جائیں ان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ رہنا ثابت نہیں ہوتا۔کیونکہ وفات رفع سے پہلے ہے۔ہم نماز میں بین السجدتین ( دوسجدوں کے درمیان ) دُعا کرتے ہیں وَارْفَعْنِی۔اے اللہ! میرا ارفع کر۔کیا اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ مجھے آسمان پر اُٹھالے، ہر گز نہیں۔اس کا مطلب صرف یہی ہے کہ میرے درجات بلند کر۔یہی معنی اس آیت میں حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے کئے جائیں گے۔تیسری دلیل :- مَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُوْلُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ ج ط الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ ، كَانَا يَأْكُلْنِ الطَّعَامَ ط (سورہ مائدہ : ۷۶) مسیح ابن مریم صرف ایک رسول تھا اس سے پہلے رسول ( بھی ) فوت ہو چکے ہیں اور اس کی ماں راستباز تھی۔وہ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔استدلال :- اس آیت میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم کی حیثیت صرف ایک رسول کی ہے اور ان سے پہلے جس قدر انبیاء آئے وہ فوت ہو گئے۔وہ خود بھی اور ان کی والدہ بھی کھانا کھایا کرتے تھے۔كَانَا يَا كُلاَنِ الطَّعَام ماضی استمراری ہے یعنی جب زندہ تھے وہ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے لیکن اب نہیں کھاتے۔جس طرح حضرت مریم موت کی وجہ سے اب کھانا نہیں کھاتیں اسی طرح مسیح ابن مریم بھی نہیں کھاتے۔انبیاء کے متعلق قرآن کریم کہتا ہے۔وَمَا جَعَلْتُهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خُلِدِينَ (سورة الانبياء : ٩) اور ہم نے ان رسولوں کو ایسا جسم نہیں دیا تھا کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ وہ غیر معمولی عمر 94