دیباچہ تفسیر القرآن — Page 49
تھ ہی وہ ہم سے یہ منوانا چاہتی ہے کہ ہارون کو خدا نے ایک نبی کے مقام پر کھڑا کیا اور دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث کیا اور اُس سے باتیں کیں اور اپنا وجود اُس پر ظاہر کیا مگر جب سامری نے اس کے آگے شرک کی تعلیم پیش کی تو اس کے ساتھیوں کے کہنے پر اس نے ایک سونے کا بچھڑا بنایا اور لوگوں کے سامنے رکھ دیا اور کہا یہ تمہارا خدا ہے۔وہ قوم کے ڈر کے مارے خدا کو بھول گیا، اپنے دین کو بھول گیا، اپنی ذمہ داری کو بھول گیا، اپنے علم کو بھول گیا اور جاہلوں اور نادانوں کی طرح ایک بے جان کھلونے کے سامنے اپنے ماتھے کو رگڑنے لگا۔بائبل میں دست اندازی کرنے والے مصنّف خود بیوقوف ہوں گے لیکن یہ ان کی انتہائی جسارت تھی کہ وہ بعد میں آنے والے لوگوں کو بھی اپنے جیسا بے وقوف سمجھتے تھے۔یقینا اُن کی دست بُرد کے بعد ایک ایسی کتاب کی ضرورت تھی جو تورات کی ان لغویات کا پول کھول دے اور دنیا کو بتا دے کہ ہارونؑ شرک کرنے والوں میں سے نہیں تھا۔چنانچہ وہ کتاب قرآن کریم کی صورت میں نازل ہوئی اور اس نے یہ اعلان کیا کہ ہارونؑ نے ہرگز شرک نہ کیا تھا بلکہ اس نے اپنی قوم کو شرک سے روکا تھا۔چنانچہ فرماتاتا ہے۔ ۶۱؎ یقینا ہارون نے موسیٰ کے پہاڑ سے واپس آنے سے بھی پہلے بنی اسرائیل سے کہہ دیا تھا کہ اس بچھڑے کے ذریعہ سے تم گمراہی میں مبتلا کر دیئے گئے ہو اور تمہارا ربّ وہ ہے جس نے تمہاری پیدائش سے بھی پہلے تمہاری زندگی کی راحت کے سامان مہیا کر دئیے ہیں (اور یہ بچھڑا تمہاری آنکھوں کے سامنے بنایا گیا ہے) پس میری اتباع کرو اور میرا حکم مانو(اور شرک میں مبتلا نہ ہو) کیا کوئی عقلمند دنیا میں یہ کہہ سکتا ہے کہ موسٰی ؑپر نازل ہونے والی کتاب جب صداقتوں اور سچائیوں کو جھٹلانے لگے اور خلافِ عقل باتیں بیان کرنے لگے تو اُس وقت کسی ایسی کامل کتاب کی ضرورت نہ تھی جو آئے تو موسٰی ؑکے دوہزار سال بعد لیکن سچائیاں اس طرح بیان کرے کہ گویا موسٰی ؑکے وقت میں اور اس کے ساتھ موجود تھی۔۵۔پیدائش باب ۱۹ آیت ۲۶ میں لکھا ہے کہ لوط کی بیوی نے لوط کے ساتھ شہر سے بھاگتے ہوئے پیچھے پھر کر دیکھا اور وہ نمک کا کھمبا بن گئی۔تورات کی یہ بات جنوں اور پریوں کے کسی