دیباچہ تفسیر القرآن — Page 48
اور تمہاری بیٹیوں کے کانوں میں ہیں توڑ توڑ کے مجھ پاس لائو۔چنانچہ سب لوگ زیور جو اُن کے پاس تھے توڑ توڑ کرہارون کے پاس لائے اور اس نے ان کے ہاتھوں سے لیا اورایک بچھڑا ڈھال کراس کی صورت چھینی سے درست کی اور انہوں نے کہا کہ اے اسرائیل! یہ تمہارا معبود ہے جو تمہیں مصر کے ملک سے نکال لایا اورجب ہارون نے یہ دیکھا تو اس کے آگے ایک قربا نگاہ بنائی اور ہاورن نے یہ کہہ کر منادی کی کہ کل خداوند کے لئے عید ہے اور وَے صبح کو اُٹھے اور سو ختنی قربانیاں چڑھائیں اور سلامتی کی قربانیاں گزاریں اور لوگ کھانے پینے کو بیٹھے اور کھیلنے کو اُٹھے‘‘۔۶۰؎ لیکن یہ بات کسی انسان کی عقل میں نہیں آسکتی۔کیا یہ ہو سکتا ہے کہ جس سے خدا کلام کرے وہ شرک کرنے لگ جائے۔ایک ہاتھی کودیکھنے والا اسے چوہا نہیں قرار دے سکتا۔ایک سورج کو دیکھنے والا اسے موم کی شمع نہیں قرار دے سکتا۔ایک انسان کو دیکھنے والا اسے مچھر نہیں قرار دے سکتا۔پھریہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ خد اکو دیکھنے والا اوراس سے باتیں کرنے والا نبی ایک سونے کے بنے ہوئے بت کو خدا قرار دیدے۔ہم ایک پاگل سے بھی تو اس قسم کی امید نہیں کر سکتے۔پھر خدا کے ایک نبی سے اس قسم کی امید کس طرح کر سکتے ہیں۔دوسرے یہودی تو معذور تھے۔نہ اُنہوں نے خدا کو دیکھا تھا نہ اس سے باتیں کی تھیں۔انہوں نے موسیٰ اور ہارون کی باتیں سنی تھیں اوراس پر ایمان لے آئے۔اِسی طرح ان سے سامری نے جو کچھ کہا اُنہوں نے مان لیا۔مگر ہارون کو کیا ہو گیا تھا؟ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ جس نے خدا کو دیکھا ہو اور اس سے باتیں کی ہوں وہ سامری کے دھوکے میں آجائے اور خود اپنے ہاتھ سے ایک سونے کا بچھڑا بنا کر اسے خدا قرار دینے لگے؟ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ دلوں کے بھید جاننے والے خدا نے اس شخص کو بنی اسرائیل کی اصلاح کیلئے چنا ہو جو موقع پر اتنا بزدل اور کمزور ثابت ہوا ہو؟ ایک عام بادشاہ کی تعریف کرنے والے مؤرخین لکھا کرتے ہیں کہ اس نے اچھے جرنیل چنے اور یہ اس کے کمال کی علامت ہے۔حالانکہ کوئی بادشاہ اپنے جرنیلوں کے دلوں کو نہیں پڑھ سکتا۔لیکن بائبل کہتی ہے کہ خدا خدا بھی ہے اور غیب دان بھی ہے اور سب انسانوں سے خواہ وہ بادشاہ ہوں یا غیربادشاہ زیادہ عالم اور زیادہ جاننے والا بھی ہے مگر