دیباچہ تفسیر القرآن — Page 37
ان حوالوں سے صاف ظاہر ہے کہ یشوع کی کتاب کو یشوع نے نہیں لکھا اور ایوب کی کتاب کو ایوب نے نہیں لکھا بلکہ بعد کے لوگوں نے سنی سنائی باتوں کی بناء پر لکھ دی تھیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بائبل کے انبیاء نے توالٰہی کلام ایک جگہ جمع کر دیا تھا مگر بعد میں مٹ گیا اور لوگوں نے اپنی یاد سے وہ کلام دوبارہ لکھا اور بہت سی باتیں اپنی طرف سے اس میں داخل کردیں۔کیا اِس قسم کی کتابیں جو نہ صرف تاریخی شواہد کی بناء پر بلکہ اپنی اندرونی شہادت کی بناء پر بھی مجروح اور غیر یقینی ہیں اور ان میں غلط واقعات بھی بیان ہو گئے ہیں، یہ ثابت نہیں کرتیں کہ دنیا کو موسٰی ؑاور ان کے بعد آنے والے نبیوں کی کتابیں تسلی نہیں دے سکتی تھیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت سے ہاتھ کھینچ لیا اور ایک ایسی کتاب کی امید دنیا کو لگا دی جوہر قسم کی انسانی دستبرد سے پاک اور محفوظ ہو؟ اگر موسٰی ؑاور اس کے بعد آنے والے نبیوں کی کتابوں کے بگاڑ کے بعد بھی خدا تعالیٰ کسی ایسے کلام کی بنیاد نہ رکھتا جو یقینی اور محفوظ ہوتا تو ہمیں ماننا پڑتا کہ خدا تعالیٰ کو اپنے بندوں کی ہدایت اور راہنمائی کا کوئی فکر نہیں اوروہ ایمان کے بیج کو یقین اور اطمینان کی زمین میں بونے کی بجائے شک و شبہ اور بے اطمینانی کی زمین میں بونا چاہتا ہے اور اسے اتنا اعتبار بھی بخشنا نہیں چاہتا جتنا کفر کو حاصل ہے لیکن کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ کیا یہ امر خدا تعالیٰ کی شان کے شایاں ہے؟ اگر نہیں تو ہمیں یقینا اُس کتاب کی تلاش کرنی پڑے گی جس نے منسوخ، محرف اور مبدل بائبل کی جگہ لی۔بائبل کی متضاد باتیں بائبل سے اور بھی ایسی اندورنی شہادتوں کا پتہ لگتا ہے جو اس بات پر روشنی ڈالتی ہیں کہ بائبل اپنی اصلی حالت میں محفوظ نہیں ہے۔مثلاً : ۱۔تورات کی پہلی کتاب پیدائش میں لکھا ہے۔’’تب خدا نے کہا کہ ہم انسان کو اپنی صورت اوراپنی مانند بنا ویں‘‘۔۵۵؎ آگے چل کر لکھا ہے:۔’’ لیکن نیک و بد کی پہچان کے درخت سے نہ کھانا‘‘۔۵۶؎