دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 36

کوئی اور ہی شخص ہوں۔دوسری اندرونی دلیل اس بات کی کہ موجودہ تورات حضرت موسیٰ کے بعد لکھی گئی اور اُس میںد وسرے لوگو ں کی تحریریں بھی شامل ہیں یہ ہے کہ پیدائش باب ۱۴ آیت ۱۴ میں لکھا ہے:۔’’ جب ابرام نے سنا کہ میرا بھائی گرفتار ہوا تو اُس نے اپنے ساتھ سیکھے ہوئے تین سَو اٹھارہ خانہ زادوں کو لے کر دان تک ان کا تعاقب کیا‘‘۔لیکن قاضیوں باب ۱۸ آیت ۲۷تا۲۹ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شہر جس کا نام پیدائش میں ’’دان‘‘ آیا ہے پہلے لیس کہلاتا تھا لیکن موسیٰ کے کوئی ۸۰ سال بعد اس شہر کو فتح کرکے اس کا نام ’’دان‘‘ رکھا گیا۔چنانچہ لکھا ہے: ’’ وہ میکاہ کی بنوائی ہوئی چیزوں کو اور اس کا ہن کو جو اس کے ہاں تھا لے کر لیس میںا یسے لوگوں کے پاس پہنچے جو امن اور چین سے رہتے تھے اور ان کو تہہ تیغ کیا اور شہر جلا دیا اور بچانے والا کوئی نہ تھا۔کیونکہ وہ صیدا سے دور تھا اور یہ لوگ کسی سے سروکار نہیں رکھتے تھے اور وہ شہر بیتِ رحوب کے پاس کی وادی میں تھا۔پھر انہوں نے وہ شہر بنایا اور اس میں رہنے لگے اور اس شہر کا نام اپنے باپ’’ دان‘‘ کے نام پر جو اسرائیل کی اولاد تھادان رکھا۔لیکن پہلے اس شہر کا نام لیس تھا‘‘۔پس جو نام حضرت موسٰی ؑکے ۸۰ سال بعد رکھا گیا تھا وہ موسیٰ کی کتاب میں کس طرح آسکتا تھا؟ اس حوالہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ کی کتاب میں ان کی وفات کے بعد دخل اندازی ہوتی رہی اور بعض لوگوں نے اپنے زمانہ کے خیالات اور افکار اس میں داخل کر دیئے۔یہ تغیرو تبدل صرف موسیٰ کی کتابوں کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ دوسری کتابوں کا بھی یہی حال ہے۔چنانچہ یشوع کی کتاب کے باب ۲۴ آیت ۲۹ میں لکھاہے:۔اور ایسا ہو اکہ بعد ان باتوں کے نون کا بیٹا یشوع خداوند کا بندہ جو ایک سَو دس برس کا بوڑھا تھا رحلت کر گیا۔اسی طرح ایوب کی کتاب باب ۴۲ آیت ۱۷ میں لکھا ہے۔’’اورایوب بوڑھا اور عمردراز ہو کے مر گیا‘‘۔