دیباچہ تفسیر القرآن — Page 38
ا ب اِن دونوں حوالوں میںتطابق کی یہی صورت ہو سکتی ہے کہ ہم یہ تسلیم کریں کہ نیک و بد کی پہچان خد اکو بھی نہیں کیونکہ آدم خدا کی مانند تھا اور خدا تعالیٰ کی صفات آدم میں پائی جاتی تھیں اور سب سے بڑی صفت نیک وبد کی پہچان ہی ہے کیونکہ سب صفتیں اس کے ماتحت ہی آتی ہیں۔اگر آدم کو نیک و بدکی پہچان نہ تھی تو کوئی اچھی صفت بھی بطور خلق کے اس کے اندر نہیں پائی جاتی تھی کیونکہ نیک کام وہی ہوتا ہے جو ارادے اور علم کے ساتھ کیا جاتا ہے جس کام کے ساتھ ارادہ اور علم نہ ہو وہ نیک نہیں کہلا سکتا۔جب آدم کو نیک و بد کی پہچان ہی نہ تھی تو آدم اصولِ اخلاق کے ماتحت نہ کسی بدی سے بچنے والا تھا اور نہ کسی نیکی کو بجالانے والا تھا۔اسی طرح عملی طور پر اسے اچھی اور بُری باتوں کی کوئی تمیز نہ تھی۔کیا خد اتعالیٰ کا وجود بھی یہودی اور مسیحی مذہب کے مطابق ایسا ہی ہے؟ کیا خدا کو اِس بات کا کوئی علم نہیں کہ نیکی کیا چیز ہے اور بدی کیا چیز ہے؟ اگر بدی اور نیکی کا اُس کو علم نہیں تو وہ نبیوں کو کیوں بھیجتا ہے؟ اور کیا خدا کی صفات نیکیوں کو قائم کرنے والی اور بدیوں کو مٹانے والی نہیں ہیں؟اگر اس سوال کو ہم نظر انداز بھی کردیں کہ انسان کی پیدائش کی غرض ہی نیک وبد کی پہچان ہے اور اگر یہ پہچان اسے حاصل نہ ہوتو اس کے وجود کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔پھر یہ دیکھنا چاہئے کہ بغیر نیک وبد کی پہچان کے آدم خدا کی مانند ہو کس طرح گیا۔اِس پہچان کے بغیر وہ خدا کی مانند ہو ہی نہیں سکتا تھا۔اگر وہ خدا کی مانند تھا تو یہ غلط ہے کہ اسے کہا گیا کہ تونیک و بد کی پہچان کے درخت سے نہ کھانا۔اور اگر یہ درست ہے کہ اسے کہا گیا تھا کہ نیک و بدکی پہچان کے درخت سے نہ کھاناتو یہ غلط ہے کہ خد انے اسے اپنی مانند بنایا۔۲۔پیدائش باب ۲، آیت ۱۷ میں لکھا ہے:۔’’ جس دن تو اس نیک و بد کی پہچان کے درخت سے کھا ئے گا توضرور مرے گا‘‘۔اسی طرح پیدائش باب ۲ آیت ۹میں لکھا ہے:۔’’ اور باغ کے بیچوں بیچ حیات کے درخت اور نیک و بد کی پہچان کے درخت کو زمین سے لگایا‘‘۔اس آیت کے دو ہی معنی ہو سکتے ہیں یا تو یہ کہ ایک ہی درخت میں دائمی حیات بخشنے اور