دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 392

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بزرگ تو آپ کے بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے، بیویوں کے بزرگ موجود تھے اور آپ ہمیشہ اُن کا ادب کرتے تھے۔جب فتح مکہ کے موقع پر آپ ایک فاتح جرنیل کے طور پر مکہ میں داخل ہوئے تو حضرت ابوبکرؓ اپنے باپ کو آپ کی ملاقات کے لئے لائے۔اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکرؓ سے کہا۔آپ نے ان کو کیوں تکلیف دی میں خود اِن کے پاس حاضر ہوتا۔۴۹۳؎ آپ ہمیشہ اپنے صحابہؓ سے فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص اپنے بوڑھے ماں باپ کا زمانہ پائے اور پھر بھی جنت کا مستحق نہ ہو سکے، تو وہ بڑا ہی بدبخت ہے۔۴۹۴؎ مطلب یہ کہ بوڑھے ماں باپ کی خدمت انسان کو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا اتنا وارث بنا دیتی ہے کہ جس کو اپنے بوڑھے ماں باپ کی خدمت کا موقع مل جائے وہ ضرور نیکی میں مستحکم اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا مستحق ہو جاتا ہے۔ایک شخص نے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! میرے رشتہ دار ایسے ہیںکہ میں اُن سے نیک سلوک کرتا ہوں اور وہ مجھ سے بد سلوکی کرتے ہیں۔میں ان سے احسان کرتا ہوں اور وہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں۔میں اُن کے ساتھ محبت سے پیش آتا ہوں اور وہ مجھ سے ترش روئی سے پیش آتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ بات ہے تو پھر تو تمہاری خوش قسمتی ہے کیونکہ خدا کی مدد تمہیں ہمیشہ حاصل رہے گی۔۴۹۵؎ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ و خیرات کی نصیحت فرما رہے تھے تو آپ کے ایک صحابی ابو طلحہؓ انصاری آئے اور اُنہوں نے اپنا ایک باغ صدقہ کے طور پر وقف کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اِس پر بہت خوش ہوئے اور فرمایا بہت عمدہ صدقہ ہے بہت اچھا صدقہ ہے۔بہت اچھا صدقہ ہے۔پھر فرمایا۔لو اب تو تم اسے وقف کر چکے۔اب میرا دل چاہتا ہے کہ تم اس کواپنے رشتہ داروں میں بانٹ دو۔۴۹۶؎ ایک دفعہ ایک شخص آپ کے پاس آیا اور اُس نے کہا۔یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! میں آپ سے ہجرت کی بیعت کرتا ہوں اور آپ سے خد اکے رستہ میں جہاد کرنے کی بیعت کرتا ہوں۔کیونکہ میں چاہتا ہوںمیرا خدا مجھ سے خوش ہو جائے۔آپ نے فرمایا کیا تمہارے والدین میں سے