دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 393

کوئی زندہ ہے؟ اُس نے کہا دونوں زندہ ہیں۔آپ نے فرمایا کیا تم چاہتے ہو کہ خد اتم سے راضی ہوجائے۔اس نے کہا ہاں یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! آپ نے فرمایا پھر بہتر یہ ہے کہ واپس جائو اور اپنے والدین کی خدمت کرو اور خوب خدمت کرو۔۴۹۷؎ آپ ہمیشہ اس بات کی نصیحت کیا کرتے تھے کہ حسن سلوک میں مذہب کی کوئی شرط نہیں۔غریب رشتہ دار خواہ کسی مذہب کے ہوں اُن سے حسن سلوک کرنا نیکی ہے۔حضرت ابوبکرؓ کی ایک بیوی مشرکہ تھیں۔حضرت ابوبکرؓ کی بیٹی اسماءؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! کیا میں اُس سے حسن سلوک کر سکتی ہوں؟ آپ نے فرمایا ضرور وہ تیری ماں ہے تو اُس سے حسن سلوک کر۔۴۹۸؎ رشتہ دار تو الگ رہے آپ اپنے رشتہ داروں کے رشتہ داروں اور اُن کے دوستوں تک کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔جب کبھی آپ قربانی کرتے تو آپ حضرت خدیجہؓ کی سہیلیوں کی طرف ضرور گوشت بھجواتے اور ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ خدیجہؓ کی سہیلیوں کو نہ بھولنا اُن کی طرف گوشت ضرور بھجوانا۔۴۹۹؎ ایک دفعہ حضرت خدیجہ کی وفات کے کئی سال بعد آپ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت خدیجہؓ کی بہن ہالہؓ آپ سے ملنے آئیں اور دروازہ پر کھڑے ہو کر کہا’’ کیا میں اندر آ سکتی ہوں‘‘؟ ہالہؓ کی آوازمیں اُس وقت اپنی مرحومہ بہن حضرت خدیجہؓ سے بے انتہاء مشابہت پیدا ہو گئی۔اس آواز کے کان میں پڑتے ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر کپکپی آگئی پھر آپ سنبھل گئے اور فرمایا آہ میرے خدا! یہ تو خدیجہ کی بہن ہالہؓ ہیں۵۰۰؎ درحقیقت سچی محبت کا اصول ہی یہی ہے کہ جس سے پیار ہو اور جس کا ادب ہو اُس کے قریبیوں اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والوں سے بھی محبت اور پیار پیدا ہو جاتا ہے۔انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ میں ایک دفعہ سفر پر تھا جریرؓ بن عبداللہؓ ایک دوسرے صحابی بھی اس سفر میں ساتھ تھے وہ سفر میں نوکروں کی طرح میرے کام کیا کرتے تھے۔جریرؓ بڑے تھے اور اُن کا ادب حضرت انسؓ اپنے لئے ضروری سمجھتے تھے اس لئے وہ کہتے ہیں کہ میں اُنہیں منع کرتا تھا کہ ایسا نہ کریں۔میرے ایسا کہنے پر جریرؓ جواب میں کہتے تھے میں نے انصار کو رسول اللہ