دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 391 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 391

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے فرمایا۔خد اکی قسم! وہ ہر گز مؤمن نہیں، خد اکی قسم! وہ ہر گز مؤمن نہیں، خدا کی قسم !وہ ہر گز مؤمن نہیں، صحابہؓ نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! کون مؤمن نہیں؟ آپ نے فرمایا وہ جس کے ہمسایہ اُس کے ضرر اور اُس کی بد سلوکی سے محفوظ نہیں۔۴۸۸؎ عورتوں کو بھی آپ نصیحت فرمایا کرتے کہ اپنی ہمسایوں کا خیال رکھا کرو۔ایک دفعہ آپ عورتوں میں وعظ میں فرما رہے تھے کہ آپ نے فرمایا اگر بکری کا ایک پایہ بھی کسی کو ملے تو اس میں وہ اپنے ہمسایہ کا حق رکھے۔۴۸۹؎ آپ ہمیشہ صحابہؓ کو نصیحت کرتے تھے کہ اگر تمہارا ہمسایہ تمہاری دیوار میں میخ وغیرہ گاڑتا ہے یا تمہاری دیوار سے کوئی ایسا کام لیتا ہے جس میں تمہارا کوئی نقصان نہیں تو اُسے روکا نہ کرو۔۴۹۰؎ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے، جو کوئی اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لاتا ہے وہ اپنے ہمسائے کو دُکھ نہ دے۔جو کوئی اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لاتا ہے وہ اپنے مہمان کو دکھ نہ دے اور جو کوئی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے وہ یا تو نیک بات کہے یا خاموش رہے۔۴۹۱؎ ماں باپ اور دوسرے رشتہ داروں سے حسنِ سلوک دنیا میں اکثر لوگ جب بالغ ہو جاتے ہیں اور بیوی بچوں کے فکر اُنہیں لگ جاتے ہیں تو ماں باپ سے حسن سلوک میں کمزوری دکھانے لگ جاتے ہیں۔رسول کریمﷺ اِس نقص کو دور کرنے کیلئے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کی اہمیت کو بار بار واضح فرماتے رہتے تھے۔چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اُس نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! میرے حسن سلوک کا کون زیادہ مستحق ہے؟ آپ نے فرمایا۔تیری ماں۔اس نے کہا پھر؟ آپ نے فرمایا۔پھر بھی تیری ماں۔اُس نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! اِس کے بعد؟ آپ نے فرمایا۔اس کے بعد بھی تیری ماں۔اُس نے چوتھی دفعہ کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! اس کے بعد؟ تو آپ نے فرمایا۔پھر تیرا باپ۔پھر جو اس کے بعد رشتہ دار ہوں پھر جو ان کے بعد رشتہ دار ہوں؟۴۹۲؎