دیباچہ تفسیر القرآن — Page 238
علیہ وسلم کی وفات کی خبرسن کر اُس عورت کا حال ہوا۔وہ آپ کو فوت شدہ ماننے کے لئے تیار نہ تھی اور دوسری طر ف اِس خبر کی تردید بھی نہیں کر سکتی تھی۔اس لئے شدت ِغم میں یہ کہتی جاتی تھی ارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیا کیا۔یعنی ایسا وفادار انسان ہم کو یہ صدمہ پہنچانے پر کیونکر راضی ہو گیا۔جب لوگوں نے دیکھا کہ اُسے اپنے باپ، بھائی اور خاوند کی کوئی پرواہ نہیں تو وہ اس کے سچے جذبات کو سمجھ گئے اور اُنہوں نے کہا۔فلانے کی اماں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو جس طرح تو چاہتی ہے خدا کے فضل سے خیریت سے ہیں۔اس پر اُس نے کہامجھے دکھائو وہ کہاں ہیں؟ لوگوں نے کہا۔آگے چلی جائو وہ آگے کھڑے ہیں۔وہ عورت دوڑ کر آپ تک پہنچی اور آپ کے دامن کو پکڑ کر بولی یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، جب آپ سلامت ہیں تو کوئی مرے مجھے کوئی پرواہ نہیں۔۲۶۷؎ مردوں نے جنگ میں وہ نمونہ ایمان کا دکھایا اور عورتوں نے یہ نمونہ اخلاص کا دکھایا، جس کی مثال میں نے ابھی بیان کی ہے۔عیسائی دنیا مریم مگد لینی اور اس کی ساتھی عورتوں کی اِس بہادری پر خوش ہے کہ وہ مسیح کی قبر پر صبح کے وقت دشمنو ں سے چھپ کر پہنچی تھیں۔میں اُن سے کہتا ہوںآئو اور ذرا میرے محبوب کے مخلصوں اور فدائیوں کو دیکھو کہ کن حالتوں میں اُنہوں نے اُس کا ساتھ دیا اور کن حالتوں میں اُنہوں نے توحید کے جھنڈے کو بلند کیا۔اِس قسم کی فدائیت کی ایک اور مثال بھی تاریخوں میں ملتی ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہدا ء کو دفن کر کے مدینہ واپس گئے تو پھر عورتیں اور بچے شہر سے باہر استقبال کیلئے نکل آئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُونٹنی کی باگ سعد بن معاذؓ مدینہ کے رئیس نے پکڑی ہوئی تھی اور فخر سے آگے آگے دوڑے جاتے تھے شاید دنیا کو یہ کہہ رہے تھے کہ دیکھا ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیریت سے اپنے گھر واپس لے آئے۔شہر کے پاس اُنہیں اپنی بڑھیا ماں جس کی نظر کمزور ہو چکی تھی آتی ہوئی ملی۔اُحد میں اُس کا ایک بیٹا عمرو بن معاذؓ بھی مارا گیا۔اُسے دیکھ کر سعد بن معاذؓ نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! ااُمّی۔اے اللہ کے رسول! میری ماں آرہی ہے۔آپ نے فرمایا خد ا تعالیٰ کی برکتوں کے ساتھ آئے۔بڑھیا آگے بڑھی اور اپنی کمزور پھٹی آنکھوں