دیباچہ تفسیر القرآن — Page 237
مسلمان شہداء کے ناک کان بھی کاٹ دئیے ہیں۔چنانچہ یہ لوگ جن کے ناک کان کاٹے گئے ہیں اُن میں خود آپ کے چچا حمزہؓ بھی تھے۔آپ کو یہ نظارہ دیکھ کر افسوس ہوا اور آپ نے فرمایا کفّار نے خود اپنے عمل سے اپنے لئے اُس بدلہ کو جائز بنا دیا ہے جس کو ہم ناجائز سمجھتے تھے۔مگر خدا تعالیٰ کی طرف سے اُس وقت آپ کو وحی ہوئی کہ کفّار جو کچھ کرتے ہیں اُن کوکرنے دو تم رحم اور انصاف کادامن ہمیشہ تھامے رکھو۔۲۶۶؎ جنگ اُحد سے واپسی اور اہل مدینہ کے جذباتِ فدائیت جب اِسلامی لشکر واپس مدینہ کی طرف لوٹا تو اُس وقت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت اور اِسلامی لشکر کی پراگندگی کی خبر مدینہ پہنچ چکی تھی۔مدینہ کی عورتیں اور بچے دیوانہ وار اُحدکی طرف دَوڑے جا رہے تھے۔اکثر کو تو راستہ میں خبر مل گئی اور وہ رُک گئے، مگر بنو دینار قبیلہ کی ایک عورت دیوانہ وار آگے بڑھتے ہوئے اُحد تک جا پہنچی۔جب وہ دیوانہ وار اُحد کے میدان کی طرف جار ہی تھی اُس عورت کا خاوند اور بھائی اور باپ اُحد میں مارے گئے تھے اور بعض روایتوں میں ہے کہ ایک بیٹا بھی مارا گیا تھا۔جب اُسے اُس کے باپ کے مارے جانے کی خبر دی گئی تو اُس نے کہا مجھے بتائو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ چونکہ خبر دینے والے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مطمئن تھے وہ باری باری اُسے اس کے بھائی اور خاوند اور بیٹے کی موت کی خبر دیتے چلے گئے مگر وہ یہی کہتی چلی جاتی تھی ’’مَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم‘‘۔ارے ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا؟ بظاہر یہ فقرہ غلط معلوم ہوتا ہے اور اسی وجہ سے مؤرخوں نے لکھا ہے کہ اُس کا مطلب یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہوا۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ فقرہ غلط نہیں بلکہ عورتوں کے محاورہ کے مطابق بالکل درست ہے۔عورت کے جذبات بہت تیز ہوتے ہیں اور وہ بسا اوقات مُردوں کو زندہ سمجھ کر کلام کرتی ہے۔جیسے بعض عورتوں کے خاوند یا بیٹے مر جاتے ہیں تو اُ ن کی موت پر اُن سے مخاطب ہو کر وہ اِس قسم کی باتیں کرتی رہتی ہیں کہ مجھے کس پر چھوڑ چلے ہو؟ یا بیٹا! اس بڑھاپے میں مجھ سے کیوں منہ موڑ لیا؟ یہ شدتِ غم میں فطرتِ انسا نی کا ایک نہایت لطیف مظاہرہ ہوتا ہے۔اِسی طرح رسول کریم صلی اللہ