دیباچہ تفسیر القرآن — Page 239
سے اِدھر اُدھر دیکھا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل نظر آجائے۔آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ پہچان لیا اور خوش ہو گئی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مائی! مجھے تمہارے بیٹے کی شہادت پر تم سے ہمدردی ہے۔اِس پر نیک عورت نے کہا۔حضور! جب میں نے آپ کو سلامت دیکھ لیا تو سمجھو کہ میں نے مصیبت کو بھون کر کھا لیا۔’’ مصیبت کو بھون کر کھا لیا۔‘‘۲۶۸؎ کیا عجیب محاورہ ہے۔محبت کے کتنے گہرے جذبات پر دلالت کرتاہے غم انسان کو کھا جاتا ہے۔وہ عورت جس کے بڑھاپے میں اُس کا عصائے پیری ٹوٹ گیا کس بہادری سے کہتی ہے کہ میرے بیٹے کے غم نے مجھے کیا کھانا ہے جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیںتو میں اس غم کو کھا جائو ں گی۔میرے بیٹے کی موت مجھے مارنے کا موجب نہیں ہوگی بلکہ یہ خیال کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اُس نے جان دی میری قوت کے بڑھانے کا موجب ہو گا۔اے انصار! میری جان تم پر فدا ہو تم کتنا ثواب لے گئے۔بہر حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیریت سے مدینہ پہنچے۔گو اِس لڑائی میں بہت سے مسلمان مار ے بھی گئے اور بہت سے زخمی بھی ہوئے لیکن پھر بھی اُحد کی جنگ شکست نہیں کہلا سکتی۔جو واقعات میں نے اُوپر بیان کئے ہیں اُن کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ایک بہت بڑی فتح تھی ایسی فتح کہ قیامت تک مسلمان اس کو یاد کر کے اپنے ایمان کو بڑھا سکتے ہیں اور بڑھاتے رہیں گے۔مدینہ پہنچ کر آپ نے پھر اپنا اصل کام یعنی تربیت اور تعلیم اور اصلاحِ نفس کاشروع کر دیا۔مگر آپ یہ کام سہولت اور آسانی سے نہیں کر سکے۔اُحد کے واقعہ کے بعد یہود میںاور بھی دلیری پیدا ہو گئی اور منافقوں نے اور بھی سر اُٹھانا شروع کر دیا اور وہ سمجھے کہ شاید اِسلام کو مٹا دینا انسانی طاقت کے اند رکی بات ہے۔چنانچہ یہودیوں نے طرح طرح سے آپ کوتکلیفیں دینی شروع کر دیں۔گندے شعر بنا کر اُن میں آپ کی اور آپ کے خاندان کی ہتک کی جاتی تھی۔ایک دفعہ آپ کو کسی جھگڑے کا فیصلہ کرنے کے لئے یہودیوں کے قلعہ میں جانا پڑا تو اُنہوں نے ایک تجویز کی کہ جہاں آپ بیٹھے تھے اُس کے اُوپر سے ایک بڑی سِل گرا کر آپ شہید کر دیئے جائیں مگر خدا تعالیٰ نے آپ کو وقت پر بتا دیا اور آپ وہا ں سے بغیر کچھ کہنے کے چلے آئے۲۶۹؎۔بعد میں یہودں نے اپنے قصور کو تسلیم کر لیا۔