دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 444

مسلمان ایک خاص وقت میں مکہ مکرمہ میں جمع ہوتے ہیں اور اس طرح ہر سال عالم اسلام کو ایک جگہ جمع ہونے کا موقع مل جاتا ہے اور اپنی اور باقی دنیا کی ضرورتوں کے متعلق غور کرنے کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔مگر حج کے علاوہ ایک عمرہ کی عبادت بھی ہے جس میں کسی وقت کی شرط نہیں وہ انفرادی عبادت ہے۔مختلف وقتوں میں جب بھی کسی کو توفیق حاصل ہوتی ہے وہ مکہ میں جاتا اور اس فریضہ کو ادا کرتا ہے۔اس حکم سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ مرکز کے قیام کے لئے مسلمانوں کو اجتماعی اور انفرادی دونوں قسم کی قربانیاں کرنی چاہئیں۔زکوٰۃ و صدقہ خیرات چوتھی قسم کی عبادت کی مثال صدقہ و خیرات ہے۔اس عبادت کی بھی اسلام نے انفرادی اور اجتماعی دونوں صورتیں مقرر کی ہیں اور فرضی اور نفلی مقرر کی ہیں۔ہر عید کے موقع پر رمضان کے بعد عید کی نماز سے پہلے ہر مؤمن کے لئے فرض ہے کہ وہ کم سے کم ڈیڑھ سیر گندم یا اور مناسب غلہ خدا کے لئے غرباء کی امداد کی خاطر دے خواہ غریب ہو یا امیر۔غریب اس میں سے دے جو اُس کو اُس دن ملا ہو اور امیر اس میں سے دے جو اس نے پہلے سے کما چھوڑا ہو۔اِس حکم کے سلسلہ میں ایک زکوٰۃ کا بھی حکم ہے جو ہر امیر پر واجب ہے۔ہر شخص جو کوئی روپیہ اپنے پاس جمع کرتا ہے یا جانور تجارت کے لئے پالتا ہے اُس پر ایک رقم مقرر ہے۔اسی طرح ہر کھیتی کی پیداوار پر ایک رقم مقرر ہے کھیتی کی پیداوار پر دسواں حصہ اور تجارتی اموال پر اندازاً اڑھائی فیصدی۔( اس کے احکام تفصیلی مقرر ہیں مگر اس مضمون میں تفصیلات کی گنجائس نہیں) یہ اڑھائی فیصدی صرف نفع پر نہیں دیا جاتا بلکہ رأس المال اور نفع سب پر دیا جاتا ہے اس میں حکمت یہ ہے کہ اسلام اس ذریعہ سے روپیہ جمع کرنے کو روکنا چاہتا ہے۔زمین کے لئے دسواں حصہ اور تجارتی مال کے اُوپر اڑھائی فیصدی میں جو فرق ہے یہ بظاہر غیر معقول نظر آتا ہے مگر درحقیقت اِس میں بڑی بھاری حکمت ہے اور وہ حکمت یہ ہے کہ زمین کی پیداوار پر ٹیکس دیا جاتا ہے اور تجارتی مال میں رأس المال پر بھی ٹیکس ہوتا ہے چونکہ زمین کے رأس المال پر ٹیکس نہیں لگا اس لئے پیداوار پر دسواں حصہ لیا گیا اور تجارتی مال میں چونکہ رأس المال پر بھی ٹیکس لگ گیا اس لئے صرف اڑھائی فیصدی نسبت رکھی گئی۔