دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 443

سر انجام دینے کی جگہ بھی ہیں۔مساجد اُن کے مدارس بھی ہیں اور مساجد اُن کے نکاح خانے بھی ہیں اور مساجد اُن کی قضا اور فیصلہ کے مقام بھی ہیں جہاں اُن کے مقدمات کے فیصلے کئے جاتے ہیں اور مساجد جنگی اور اقتصادی تدابیر کے فیصلہ کے لئے بھی استعمال کی جاتی ہیں۔نماز کے علاوہ ایک اِس قسم کی عبادت جس میں ذکر الٰہی کیا جاتا ہے وہ بھی ہے جبکہ انسان خاموشی سے بیٹھ کر اُس کو یادکرتا ہے اورا س کی صفات کو اپنے دل میں جذب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اِسلامی روزہ دوسری قسم کی عبادت جس میں نفس کی اصلاح مدنظر ہوتی ہے، روزہ ہے۔اسلامی روزہ بھی دوسرے لوگوں کے روزوں سے مختلف ہے۔ہندو اپنے روزوں میں کئی چیزیں کھا بھی لیتے ہیں، پھر بھی اُن کا روزہ قائم رہتا ہے۔عیسائیوں کے روزے بھی اس قسم کے ہیں کہ کسی روزے میں گوشت نہیں کھانا، کسی میں خمیری روٹی نہیں کھائی جاتی۔اسلامی روزہ بھی نماز کی طرح انفرادی بھی ہے اور اجتماعی بھی۔چنانچہ تمام مسلمانوں کو ہدایت ہے کہ وہ سال کے مختلف اوقات میں نفلی روزے رکھا کریں مگر رمضان کے مہینہ میں دنیا کے تمام مسلمانوں کو خواہ وہ کسی گوشہ میں رہتے ہوں ایک ہی وقت میں روزے رکھنے کا حکم ہے۔وہ صبح کو پَو پھٹنے سے پہلے کھانا کھاتے ہیں اور پھر سارا دن سورج کے ڈوبنے تک نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں۔سورج کے ڈوبنے کے بعد صبح تک ان کو کھانے پینے کی اجازت ہوتی ہے اُن سے امید کی جاتی ہے کہ وہ ان دنوں میں جہاں کھانے وغیرہ سے پرہیز کریں وہاں اپنے نفس کو زیادہ سے زیادہ نیکی پر قائم کرنے کی کوشش کریں کیو نکہ روزہ اُنہیں یہ سبق دیتا ہے کہ جب تم خدا کے لئے حلال چیزوں کو چھوڑ دیتے ہو تو حرام چیزوں کو چھوڑنا تمہارے لئے بدرجہ اَولیٰ ضروری ہے یہ روزے تمام ایسے ممالک میں جہاں دن چوبیس گھنٹے سے کم ہے اور جہاں رات اور دن چوبیس گھنٹے کے اندر الگ الگ وقتوں میں ظاہر ہوتے ہیں اس شکل میں ہیں جو اُوپر بیان کی گئی ہے لیکن جن ملکوں میں رات اور دن چوبیس گھنٹوں سے لمبے ہو جاتے ہیں ان علاقوں میں رہنے والوں کے لئے صرف وقت کا اندازہ کرنے کا حکم ہے۔حج بیت اللہ تیسری قسم کی عبادت کی مثال حج ہے۔حج مسلمانوں میں ایک مرکزیت کی روح پیدا کرنے کیلئے مقرر کیا گیا ہے دنیا کے تمام صاحب استطاعت