دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 445

دیگر اُمورِ ضروریہ کا ذکر قرآن مجید میں قرآن شریف بنی نوع انسان کے باہمی معاملات پر بھی تفصیلی روشنی ڈالتا ہے وہ تعاونِ باہمی کی ضرورت کو پیش کرتا ہے ا نفرادیت اور اجتماعیت کی حدود کو قائم کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ انفرادیت کے کیا حقوق ہیں اور اجتماعیت کے کیا حقوق ہیں، وہ حکومت کی حقیقت اور اُس کے فرائض بیان کرتا ہے، وہ حکومت کی ذمہ داریاں بیان کرتا ہے، وہ رعایا اور حکومت کے تعلق پر روشنی ڈالتا ہے، وہ مالک اور مزدور کے تعلقات پر روشنی ڈالتا ہے اور بین الاقوامی تعلقات کے اُصول بیان کرتا ہے۔قرآن صراحتاً اور وضاحتاً حکم دیتا ہے کہ دولت چند ہاتھوں میں جمع نہیں ہونی چاہئے بلکہ اسے زیادہ سے زیادہ پھیلانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اسی حکمت کے ماتحت وہ ایک طرف تو سُود کو منع کرتا ہے جس کے ذریعہ سے بعض ہوشیار لوگ دنیا کی دولت اپنے پاس جمع کر لیتے ہیں اور دوسری طرف وہ ورثہ کے تقسیم کرنے کا حکم دیتا ہے اور اس بات کو جائز نہیں رکھتا کہ کوئی باپ یا ماں اپنی جائیداد صرف ایک بیٹے کو دے دے۔تیسرے وہ زکوٰۃ کے ذریعہ اور صدقہ و خیرات کے ذریعہ مال ودولت امراء کے ہاتھ سے لے کر غریبوں تک پہنچاتا ہے۔چوتھے وہ گورنمنٹ کے روپیہ میں غرباء کا حق مقدم قرار دیتا ہے ان چار ستونوں پر وہ دنیا کی اقتصادی حالت کو ایک سطح پر لا کر کھڑا کر دیتا ہے۔قرآن تعلیم پر اور دماغی نشوونما پر خاص زور دیتا ہے۔وہ فکر اور غور کرنے کو مذہبی فرائض میں سے قرار دیتا ہے وہ لڑائیوں اور جھگڑوں سے روکتا ہے اور کسی حالت میں بھی حملہ میں ابتداء کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔قرآن کریم بین المذاہب تعلقات کے اُوپر بھی بڑی تفصیلی روشنی ڈالتا ہے مسلمانوں کو دوسرے مذاہب کے بزرگوں کی ہتک کرنے سے روکتا ہے اور ایسے اعتراضوں سے منع کرتا ہے جو اعتراض خود معترض کے مذہب پر بھی پڑتے ہوں۔وہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ سب مذاہب کا منبع خدا تعالیٰ ہی ہے صرف بعد کی تبدیلیوں کی وجہ سے مذاہب خراب ہوئے ہیںپس اُن کے نیک منبع کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی مذہب کو کُلّی طور پر خراب نہیں کہنا چاہئے۔قرآن کریم میں عورتوں کے حقوق کی پوری طرح حفاظت کی گئی ہے قرآن کریم دنیا میں وہ پہلی کتاب ہے جس نے علی الاعلان اس بات کو صاف الفاظ میں واضح طور پر بیان کیا ہے کہ جس طرح مردوں کے عورتوں پر حقوق