دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 442 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 442

ہو کر اجتماعی طور پر خدا تعالیٰ کی عبادت کریں وہ مسجد کہلاتی ہے اس کے لئے کسی شکل کی ضرورت نہیں نہ وہا ں کوئی آلٹر ہے نہ مقدسوں کی کوئی نشانیاں ہیں سادگی سے مسلمان ایک جگہ پر جمع ہوتے ہیں ان کی عبادت تمام دنیوی آلائشوں سے منزہ اور پاک ہوتی ہے۔کوئی باجا نہیں ہوتا کوئی گانا نہیں ہوتا۔کوئی ناچ نہیں ہوتا۔بڑے بڑے جبے پہن کر پادری نہیں آتے۔شمعیں جلائی نہیں جاتیں۔سریلے ارغنونوںاور خوشبودار دھونیوں سے لوگوں کے دماغوں کو مسحور کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔کھڑکیوں کے آگے لٹکے ہوئے پردے انسان کو ایک تاریک ماحول پیش کرکے ڈرانے کی کوشش نہیں کرتے۔بزرگوں کی تصویریں انہیں خدا تعالیٰ کی جگہ اپنی طرف بلا نہیں رہی ہوتیں۔سب مسلمان وقت مقررہ پر ایک جگہ پر جمع ہوتے ہیں اور صفیں باندھ کر یہ بتانے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ جہاں ہم اپنے گھروں میں انفرادی نمازیں پڑھ کر آئے ہیں وہاں ہم قومی طور پر بھی خدا تعالیٰ کی عبادت قائم کرنے کیلئے حاضر ہیں بغیر کسی باجے گاجے کے۔وہ اللہ تعالیٰ کی حمد اور اُس کی ثنا کرتے ہیں اورا س کے حضور میں دعائیں کرتے ہیں اور اپنی اصلاح اور روحانی اور جسمانی ترقی اور اپنے دوستوں اور عزیزوں اور باقی سب دنیا کی جسمانی اور روحانی ترقی کے لئے اس کے سامنے درخواستیں پیش کرتے ہیں۔ان کی اس سادہ نماز کی شان یہ ہوتی ہے کہ نماز کے وقت میں کوئی مؤمن اِدھر اُدھر نہیں دیکھ سکتا نہ نماز میںکسی اور سے بات کر سکتا ہے۔غریب اور امیر ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔بادشاہ کے ساتھ اس کا خادم کھڑا ہونے کا حق رکھتا ہے اُس کا کناس بھی اس کے ساتھ کھڑا ہونے کا حق رکھتا ہے۔نماز کے وقت ایک جج اور ایک مجرم، ایک جرنیل اور ایک سپاہی پہلو بہ پہلو کھڑے ہوتے ہیں کوئی کسی کی طرف انگلی نہیں اُٹھا سکتا، کوئی کسی کو اس کی جگہ سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔تمام کے تمام خاموشی سے خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں اور امام کے اشارے پر رکوع اور سجود اور قیام کے احکام بجا لاتے ہیں بعض وقت امام قرآن شریف کی آیتیں بلند آواز سے پڑھتا ہے تاکہ ساری جماعت ایک خاص نصیحت کو اپنے سامنے لے آئے اور نماز کے بعض حصوں میں ہر شخص اپنے اپنے طور پر مقررہ دعائیں یا وہ دعائیں بھی جن کو وہ چاہتا ہے پڑھتا ہے۔مساجد مسلمانوں کے اجتماع کی جگہ بھی ہیں اور مساجد مسلمانوں کے تمام قسم کے مذہبی اور علمی کاموں کو