دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 441 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 441

اجتماعی بھی ہوتی ہیں۔انسان کا صرف یہی فرض نہیں کہ وہ خود خدا کے سامنے پیش ہو جائے، بلکہ انسان کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کو بھی خدا کے سامنے پیش ہونے کے لئے تیار کرے اس لئے قرآن کے جتنے احکام عبادات کے متعلق ہیں وہ انفرادی بھی ہیں اور اجتماعی بھی ہیں۔اِسلامی نماز اور مسجدیں خد تعالیٰ کی محبت پیدا کرنے اور براہ راست خدا تعالیٰ کی ذات کی طرف متوجہ کرنے کے لئے اسلام میں نماز مقرر کی گئی ہے یہ نماز دنیا کے اور تمام مذاہب کی عبادتوں سے مختلف ہے۔اس نماز میں انفرادیت اور اجتماعیت دونوں کا لحاظ رکھا گیا ہے اور رسم و نمائش کو بالکل نظرا نداز کر دیا گیا ہے۔عبادتوں کے لئے جس قسم کے گرجے اور مندر پہلے زمانہ میںبنا کرتے تھے اور جو جو تکلفات ان کے متعلق کئے جاتے تھے قرآن نے اُن سب کو منسوخ کر دیا ہے۔قرآن خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے زمین کے ہر ٹکڑہ کو مستحق عبادت سمجھتا ہے۔کوئی ٹکڑہ اس بارہ میں دوسرے سے فضیلت نہیں رکھتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قرآنی حکم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے جُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِداً۔۵۶۱؎ خدا تعالیٰ نے ساری زمین کو ہی میرے لئے مسجد بنادیا ہے۔آپ کے اِس فقرہ کے کئی معنی ہیں۔مگر ایک معنی یہ بھی ہیں کہ دنیا کے ہر حصہ میں اور ہر جگہ پر مسلمان نماز پڑھ سکتا ہے اس کے لئے ضروری نہیں کہ جس طرح ایک عیسائی یا ہندو گرجا یا مندر کے سِوا کسی جگہ عبادت نہیں کر سکتا۔وہ بھی عید کے سِوا کسی اور جگہ عبادت نہ کر سکے۔اور اس کے لئے ضروری نہیں کہ جس طرح کسی عیسائی یا ہندو کو ضرور کوئی پادری اور پنڈت ہی عبادت کرا سکتا ہے اُس کو بھی کوئی مولوی یا مُلاّ ہی نماز پڑھائے۔اسلام پادریوں اور پنڈتوں کا قائل نہیں۔وہ ہر نیک انسان کو خدا تعالیٰ کا نمائندہ سمجھتا ہے اور ہر نیک انسان کونماز میں راہنمائی کرنے کاحق دیتا ہے۔بیشک اسلام میں مساجد بھی ہیں لیکن وہ مساجد اس لئے نہیں کہ وہ جگہیں نماز کے لئے زیادہ مناسب تھیں بلکہ مساجد صرف اس لئے ہیں کہ کسی نہ کسی جگہ پر لوگوں کو جمع ہو کر اجتماعی نماز بھی ادا کرنی چاہئے۔مساجد اجتماع کی سہولت کا ذریعہ ہیں کوئی خاص رسوم اختیار نہیں کی جاتیں جن سے یہ جگہیں متبرک کی جاتی ہوں جیسا مندر اور گرجے ہیں۔ہر چاردیواری جس میں مسلمان جمع