دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 280

جنگ نہ کرو کہ وہ ایک غلط دین کے پیرو ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے عمل کو جانتا ہے وہ خود جیسا چاہے گا ان سے معاملہ کرے گا تمہیں اُن کے غلط دین کی وجہ سے ان کے کاموں میں دخل دینے کی اجازت نہیں ہوسکتی۔اگر ہمارے اس صلح کے اعلان کے بعد بھی جو لوگ جنگ سے باز نہ آئیں اور لڑائی جاری رکھیں تو خوب سمجھ لو کہ باوجود اِس کے کہ تم تھوڑے ہو تم ہی جیتو گے کیونکہ اللہ تمہارا ساتھی ہے اور خدا تعالیٰ سے بہتر ساتھی اور بہتر مدد گار اور کون ہوسکتا ہے۔یہ آیات قرآن مجید میں جنگ بدر کے ذکر کے بعد آئی ہیں جو کفّارِ عرب اور مسلمانوں کے درمیان سب سے پہلی باقاعدہ جنگ تھی۔باوجود اس کے کہ کفّارِ عرب نے بِلاوجہ مسلمانوں پر حملہ کیا اور مدینہ کے اِرد گرد فساد مچایا اور باوجود اس کے کہ مسلمان کامیاب ہوئے اور دشمن کے بڑے بڑے سردار مارے گئے قرآن کریم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ یہی اعلان کروایا ہے کہ اگر اب بھی تم لوگ باز آجاؤ تو ہم لڑائی کو جاری نہیں رکھیں گے۔ہم تو صرف اتنا چاہتے ہیں کہ جبراً مذہب نہ بدلوائے جائیں اور دین کے معاملہ میں دخل نہ دیا جائے۔(۴) فرماتا ہے ۳۰۶؎ یعنی اگر کسی وقت بھی کفّار صلح کی طرف جھکیں تو تُو فوراً ان کی بات مان لیجیو اور صلح کر لیجیو اور یہ وہم مت کیجیو کہ شاید وہ دھوکا کررہے ہوں بلکہ اللہ تعالیٰ پر توکل رکھیو۔خدا تعالیٰ دعاؤں کو سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔اور اگر تیرا یہ خیال صحیح ہو کہ وہ دھوکا کرنا چاہتے ہیں اور وہ واقعہ میں تجھے دھوکا دینے کا ارادہ بھی رکھتے ہوں تو بھی یاد رکھ کہ ان کے دھوکا دینے سے بنتا کیا ہے۔تجھے تو صرف اللہ کی مدد سے ہی کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔اُس کی مدد تیرے لئے کافی ہے۔گزشتہ زمانہ میں وہی اپنی براہِ راست مدد کے ذریعہ اور مؤمنوں کی مدد کے ذریعہ تیرا ساتھ دیتا رہا ہے۔اِس آیت میں بتایا گیا ہے کہ جب دشمن صلح کرنے پر آمادہ ہو تو مسلمانوں کو بہر حال اس سے صلح کر لینی چاہئے۔اگر صلح کے اُصول کو وہ ظاہر میں تسلیم کرتا ہو تو صرف اِس بہا نہ سے صلح کو ردّ نہیں کرنا چاہئے کہ شاید دشمن کی نیت بَد ہو اور بعد میں طاقت پکڑ کے دوبارہ حملہ کرنا چاہتا ہو۔