دیباچہ تفسیر القرآن — Page 281
اِن آیتوں میں درحقیقت صلح حدیبیہ کی پیشگوئی کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب دشمن صلح کرنا چاہے گا اُس وقت تم اِس عذر سے کہ دشمن نے زیادتی کی ہے یا یہ کہ وہ بعد میں اس معاہدہ کو توڑ دینا چاہتا ہے صلح سے انکار نہ کرنا کیونکہ نیکی کا تقاضا بھی یہی ہے اور تمہارا فائدہ بھی اس میں ہے کہ تم صلح کی پیشکش کو تسلیم کر لو۔(۵) فرماتا ہے ۳۰۷؎ یعنی اے مومنو! جب تم خد اکی خاطر لڑائی کے لئے باہر نکلو تو اِس بات کی اچھی طرح تحقیقات کر لیا کرو کہ تمہارے دشمن پر حجت تمام ہو چکی ہے اور وہ بہر حال لڑائی پر آمادہ ہے اور اگر کوئی شخص یا جماعت تمہیں کہے کہ میں تو صلح کرتا ہوں تو یہ مت کہو کہ تو دھوکا دیتا ہے اور ہمیں اُمید نہیں کہ ہم تجھ سے امن میں رہیں گے۔اگر تم ایسا کرو گے تو پھر تم خدا کی راہ میں لڑنے والے نہیں ہو گے بلکہ تم دنیا طلب قرار پائو گے۔پس ایسا مت کرو کیونکہ جس طرح خدا کے پاس دین ہے اسی طرح خداکے پاس دنیا کا بھی بہت سا سامان ہے۔تمہیں یادر کھنا چاہئے کہ کسی شخص کا مار دینا اصل مقصود نہیں۔تمہیں کیا معلوم ہے کہ کل کو وہ ہدایت پا جائے۔تم بھی تو پہلے دین اسلام سے باہر تھے پھر اللہ تعالیٰ نے احسان کر کے تمہیں اِس دین کے اختیار کرنے کی توفیق دی۔پس مارنے میں جلدی مت کیا کرو بلکہ حقیقتِ حال کی تحقیق کیا کرو۔یاد رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خوب واقف ہے۔اِس آیت میں بتایا گیا ہے کہ جب لڑائی شروع ہو جائے تب بھی اس بات کی اچھی طرح تحقیق کرنی چاہئے کہ دشمن کا ارادہ جارحانہ لڑائی کا ہے؟ کیونکہ ممکن ہے کہ دشمن جارحانہ لڑائی کا ارادہ نہ کرتا ہو بلکہ وہ خود کسی خوف کے ماتحت فوجی تیاری کر رہا ہو۔پس پہلے اچھی طرح تحقیقات کر لیا کرو کہ دشمن کا ارادہ جارحانہ جنگ کا تھا تب اُس کے سامنے مقابلہ کے لئے آئو۔اور اگر وہ یہ کہے کہ میرا ارادہ تو جنگ کرنے کا نہیں تھا میں تو صرف خوف کی وجہ سے تیاری کر رہا