دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 279

لڑائی نہیں ہونی چاہئے کجایہ کہ عبادت گاہوںپر حملہ کیا جائے یا وہ مسمار کی جائیں یا توڑی جائیں۔ہاں اگر دشمن خود عبادت گاہوں کو لڑائی کا قلعہ بنا لے تو پھر اُن کے نقصان کی ذمہ داری اُس پر ہے اِس نقصان کی ذمہ داری مسلمانوں پر نہیں۔ہشتم: اگر دشمن مذہبی مقاموں میں لڑائی شروع کرنے کے بعد اُس کے خطرناک نتائج کو سمجھ جائے اور مذہبی مقام سے نکل کر دوسری جگہ کو میدانِ جنگ بنا لے تو مسلمانوں کو اس بہانہ سے اُن کے مذہبی مقاموں کو نقصان نہیں پہنچانا چاہئے کہ اس جگہ پر پہلے اُن کے دشمنوں نے لڑائی شروع کی تھی بلکہ فوراً اُن مقامات کے ادب اور احترام کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے حملہ کا رُخ بھی بدل دینا چاہئے۔نہم: لڑائی اُس وقت تک جاری رکھنی چاہئے جب تک کہ مذہبی دست اندازی ختم ہو جائے اور دین کے معاملہ کو صرف ضمیر کا معاملہ قرار دیا جائے۔سیاسی معاملوں کی طرح اس میں دخل اندازی نہ کی جائے۔اگر دشمن اس بات کا اعلان کر دے اور اس پر عمل کرنا شروع کر دے تو خواہ وہ حملہ میں ابتدا کر چکا ہو اُس کے ساتھ لڑائی نہیں کرنی چاہئے۔(۳) فرماتا ہے ۔۳۰۵؎ یعنی اے محمد رسول اللہ! دشمن نے جنگیں شروع کیں اور تمہیں خدا تعالیٰ کے حکم سے اُن کا جواب دینا پڑا۔مگر تو اُن میں اعلان کر دے کہ اگر اب بھی وہ لڑائی سے باز آجائیں تو جو کچھ وہ پہلے کر چکے ہیں انہیں معاف کر دیا جائے۔لیکن اگر وہ لڑائی سے باز نہ آئیں اور بار بار حملے کریں تو پہلے انبیاء کے دشمنوں کے انجام اُن کے سامنے ہیں انجام ان کا بھی وہی ہو گا۔اور اے مسلمانو! تم اُس وقت جنگ کو جاری رکھو کہ مذہب کی خاطر دُکھ دینا مٹ جائے اور دین کو کلّی طور پر خدا تعالیٰ کے سپرد کردیا جائے اور دین کے معاملہ میں دخل اندازی کرنا لوگ چھوڑ دیں۔پھر اگر یہ لوگ اِن باتوں سے باز آجائیں تو محض اِس وجہ سے اُن سے