دیباچہ تفسیر القرآن — Page 235
بت ہبل کی شان بلند ہو کہ اُس نے آج اِسلام کا خاتمہ کر دیا ہے۔وہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو اپنی موت کے اعلان پر، ابوبکرؓ کی موت کے اعلان پر اور عمرؓ کی موت کے اعلان پر خاموشی کی نصیحت فرما رہے تھے تا ایسا نہ ہو کہ زخمی مسلمانوں پر پھر کفّار کا لشکرلوٹ کر حملہ کر دے اور مٹھی بھر مسلمان اُس کے ہاتھوں شہید ہو جائیں۔اب جبکہ خدائے واحد کی عزت کا سوال پیدا ہوا اور شرک کا نعرہ میدان میں ماراگیا تو آپ کی روح بے تاب ہوگئی اور آپ نے نہایت جوش سے صحابہؓ کی طر ف دیکھ کر فرمایا تم لوگ جواب کیوں نہیں دیتے؟ صحابہ نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ!ہم کیا کہیں؟ فرمایا کہو اَللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَلُّ۔اَللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَلُّ۔۲۶۴؎ تم جھوٹ بولتے ہو کہ ہبل کی شان بلند ہوئی۔اللّٰہ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْک ہی معزز ہے اور اُس کی شان بالا ہے۔اوراس طرح آپ نے اپنے زندہ ہونے کی خبر دشمنوں تک پہنچا دی۔اِس دلیرانہ اور بہادرانہ جواب کا اثر کفّار کے لشکر پر اتنا گہرا پڑ اکہ باوجود اِس کے کہ اُن کی اُمیدیں اس جواب سے خاک میں مل گئیں اور باوجود اس کے کہ اُن کے سامنے مٹھی بھر زخمی مسلمان کھڑے ہوئے تھے جن پر حملہ کر کے اُن کو مار دینا مادی قوانین کے لحاظ سے بالکل ممکن تھا وہ دوبارہ حملہ کرنے کی جرأت نہ کر سکے اور جس قدر فتح اُن کو نصیب ہوئی تھی اُسی کی خوشیاں مناتے ہوئے مکہ کو واپس چلے گئے۔اُحد کی جنگ میں بظاہر فتح کے بعد ایک شکست کا پہلو پیدا ہوا مگر یہ جنگ درحقیقت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا ایک بہت بڑا نشان تھا۔اِس جنگ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق مسلمانوں کو پہلے کامیابی نصیب ہوئی۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق آپ کے عزیز چچا حمزہؓ لڑائی میں مارے گئے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق شروع حملہ میں کفّار کے لشکر کا علمبردار مارا گیا۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق خود آپ بھی زخمی ہوئے اور بہت سے صحابہ شہید ہوئے۔اِس کے علاوہ مسلمانوں کو ایسے اخلاص اور ایمان کا مظاہرہ کرنے کا موقع ملا جس کی مثال تاریخ میں اور کہیںنہیںملتی۔چند واقعات تو اِس اخلاص اور ایمان کے مظاہرہ کے پہلے بیان ہو چکے ہیں ایک اور واقعہ بھی بیان کر نے کے قابل ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت