دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 236

نے صحابہؓ کے دلوں میں کتنا پختہ ایمان پیدا کر دیا تھا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ صحابہ کی معیت میں پہاڑ کے دامن کی طرف چلے گئے اور دشمن پیچھے ہٹ گیا تو آپ نے بعض صحابہ کو اِس بات پر مأمور فرمایاکہ وہ میدان میں جائیں اور زخمیوں کی خبر لیں۔ایک صحابی میدان میں تلاش کرتے کرتے ایک زخمی انصاری کے پاس پہنچے۔دیکھا تو اُن کی حالت خطرناک تھی اور وہ جان توڑ رہے تھے۔یہ صحابی اُن کے پاس پہنچے اور اُنہیں اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ کہا اُنہوں نے کانپتا ہوا ہاتھ مصافحہ کے لئے اُٹھایا اوراُن کا ہاتھ پکڑ کر کہا میں انتظارکر رہا تھا کہ کوئی ساتھی مجھے مل جائے۔اُنہوں نے اِس صحابی سے پوچھا کہ آپ کی حالت توخطرناک معلوم ہوتی ہے کیا کوئی پیغام ہے جو آپ اپنے رشتہ دار کو دینا چاہتے ہیں؟ اُس مرنے والے صحابیؓ نے کہا ہاں! ہاں! میری طرف سے میرے رشتہ داروں کو سلام کہنا اوراُنہیں کہناکہ میں تومر رہا ہوں مگر اپنے پیچھے خدا تعالیٰ کی ایک مقدس امانت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود تم میںچھوڑے جا رہا ہوں۔اے میرے بھائیو اور رشتہ دارو! وہ خدا کاسچا رسول ہے میں اُمید کرتا ہوں کہ تم اس کی حفاظت میں اپنی جانیں دینے سے دریغ نہیں کرو گے اور میری اس وصیت کو یا د رکھو گے۔۲۶۵؎ مرنے والے انسان کے دل میں ہزاروں پیغام اپنے رشتہ داروں کو پہنچانے کے لئے پیدا ہوتے ہیں لیکن یہ لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں اتنے بے نفس ہو چکے تھے کہ نہ اُنہیں اپنے بیٹے یاد تھے، نہ بیویاں یا د تھیں، نہ مال یا د تھا، نہ جائدادیں یاد تھیں اُنہیں صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہی یا درہتا تھا۔وہ جانتے تھے کہ دنیا کی نجات اِس شخص کے ساتھ ہے۔ہمارے مرنے کے بعدا گر ساری اولادیں زندہ رہیں تو وہ کوئی بڑا کام نہیں کر سکتیں، لیکن اگر اِس نجات دہندہ کی حفاظت میں اُنہوں نے اپنی جانیں دے دیں تو گو ہمارے اپنے خاندان مٹ جائیں گے مگر دنیا زندہ ہوجائے گی۔شیطان کے پنجہ میں پھنسا ہوا ا نسان پھر نجات پا جائے گا اورہمارے خاندانوں کی زندگی سے ہزاروں گنے زیادہ قیمتی بنو آدم کی زندگی اور نجات ہے۔بہر حال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زخمیوں اور شہدا ء کو جمع کیا، زخمیوں کی مرہم پٹی کی گئی اور شہداء کے دفنانے کا انتظام کیا گیا۔اُس وقت آپ کو معلوم ہوا کہ ظالم کفّارِ مکہ نے بعض