دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 234

پر بھاری ہوتی ہے۔مالکؓ اِس بے جگری سے لڑے کہ دشمن حیران ہو گیا۔مگر آخر زخمی ہوئے پھر گرے اور گر کر بھی دشمن کے سپاہیوں پر حملہ کرتے رہے جس کے نتیجہ میں کفّارِ مکہ نے اِس وحشت سے آپ پر حملہ کیا کہ جنگ کے بعد آپ کی لاش کے ۷۰ ٹکڑے ملے حتی کہ آپ کی لاش پہچانی نہیں جاتی تھی۔آخر ایک اُنگلی سے آپ کی بہن نے پہچان کر بتایا کہ یہ میرے بھائی مالک کی لاش ہے۔۲۶۳؎ وہ صحابہؓ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد تھے اور جو کفّار کے ریلے کی وجہ سے پیچھے دھکیل دئیے گئے تھے کفّار کے پیچھے ہٹتے ہی وہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے۔آپ کے جسم مبارک کو اُنہوں نے اُٹھایا اور ایک صحابی عبیدہ بن الجراحؓ نے اپنے دانتوں سے آپ کے سر میں گھسی ہوئی کیل کو زور سے نکالا جس سے اُن کے دو دانت ٹوٹ گئے۔تھوڑی دیر بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش آگیااور صحابہؓ نے چاروں طرف میدان میں آدمی دوڑا دیئے کہ مسلمان پھر اکٹھے ہو جائیں۔بھاگا ہو الشکر پھر جمع ہونا شروع ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُنہیں لے کر پہاڑ کے دامن میں چلے گئے۔جب دامنِ کوہ میں بچا کھچا لشکر کھڑا تھا تو ابوسفیان نے بڑے زور سے آواز دی اور کہا ہم نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو مار دیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان کی بات کا جواب نہ دیاتا ایسا نہ ہو دشمن حقیقت حال سے واقف ہوکر حملہ کرد ے اور زخمی مسلمان پھر دوبارہ دشمن کے حملہ کا شکار ہو جائیں۔جب اِسلامی لشکر سے اِس بات کا کوئی جواب نہ ملا تو ابو سفیان کو یقین ہو گیا کہ اُس کا خیال درست ہے اور اس نے بڑے زور سے آواز دے کر کہا ہم نے ابو بکرؓ کو بھی مار دیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکرؓ کو بھی حکم فرمایا کہ کوئی جواب نہ دیں۔پھر ابو سفیان نے آواز دی ہم نے عمرؓ کو بھی مار دیا۔تب عمرؓ جو بہت جوشیلے آدمی تھے اُنہوں نے اُس کے جواب میں یہ کہنا چاہا کہ ہم لوگ خدا کے فضل سے زندہ ہیں اور تمہارے مقابلہ کے لئے تیار ہیں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ مسلمانوں کو تکلیف میں مت ڈالو اور خاموش رہو۔اب کفّار کو یقین ہو گیا کہ اِسلام کے بانی کو بھی اور اُن کے دائیں بائیں بازو کو بھی ہم نے مار دیا ہے۔اِس پر ابوسفیان اور اُس کے ساتھیوں نے خوشی سے نعرہ لگایا اُعْلُ ھُبَل۔اُعْلُ ھُبَل۔ہمارے معزز