دیباچہ تفسیر القرآن — Page 180
روزانہ کا شغل تھا۔جب یہ خانہ کعبہ میں گئے تو پھر وہی ذکر ہو رہا تھا۔اُنہوں نے پھر کھڑے ہو کر اپنے عقیدۂ توحید کا اعلان کیا اور پھر اُن لوگوں نے اُن کو مارنا پیٹنا شروع کیا۔اِسی طرح تین دن ہوتا رہا۔۲۰۲؎ اس کے بعد یہ اپنے قبیلہ کی طرف چلے گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر مظالم خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بھی محفوظ نہ تھی۔طرح طرح سے آپ کو دکھ دیا جاتا تھا۔ایک دفعہ آپ عبادت کر رہے تھے کہ آپ کے گلے میں پٹکا ڈال کر لوگوں نے کھینچنا شروع کیا یہاں تک کہ آپ کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔اتنے میں حضرت ابوبکرؓ وہاں آگئے اور اُنہوں نے یہ کہتے ہوئے چھڑایا کہ اے لوگو! کیا تم ایک آدمی کو اس جرم میں قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے خدا میرا آقا ہے۔۲۰۳؎ ایک دفعہ آپ نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ کی پیٹھ پر اُونٹ کی اوجھری لا کر رکھ دی گئی اور اس کے بوجھ سے اُس وقت تک آپ سر نہ اُٹھا سکے جب تک بعض لوگوں نے پہنچ کر اُس اوجھری کو آپ کی پیٹھ سے ہٹایا نہیں۔۲۰۴؎ ایک دفعہ آپ بازار سے گزر رہے تھے تو مکہ کے اوباشوں کی ایک جماعت آپ کے گرد ہو گئی اور رستہ بھر آپ کی گردن پر یہ کہہ کر تھپڑ مارتی چلی گئی کہ لوگو! یہ وہ شخص ہے جو کہتا ہے میں نبی ہوں۔آپ کے گھرمیں اِردگرد کے گھروں سے متواتر پتھر پھینکے جاتے تھے۔باورچی خانہ میں گندی چیزیں پھینکی جاتی تھیں۔جن میں بکروں اور اونٹوں کی انتڑیاں بھی شامل ہوتی تھیں۔جب آپ نماز پڑھتے تو آپ پر خاک دھول ڈالی جاتی حتی کہ مجبور ہو کر آپ کو چٹان میں سے نکلے ہوئے ایک پتھر کے نیچے چھپ کر نماز پڑھنی پڑتی تھی۔مگر یہ مظالم بیکار نہ جار ہے تھے۔شریف الطبع لوگ اِن کو دیکھتے اور اسلام کی طرف اُن کے دل کھنچے چلے جاتے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن خانہ کعبہ کے قریب صفا پہاڑی پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ابو جہل آپ کا سب سے بڑا دشمن اور مکہ کا سردار وہاں سے گزرا اور اُس نے آپ کو گالیاں دینی شروع کیں۔آپ اُس کی گالیاں سنتے رہے اور کوئی جواب نہ دیااو ر خاموشی سے اُٹھ کر اپنے گھر چلے گئے۔آپ کے خاندان کی ایک لونڈی اِس واقعہ کو دیکھ رہی تھی۔شام کے وقت آپ کے چچا حمزؓہ جو