دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 179

بھی اسلام سے باز آئو گے یا نہیں؟ مگر وہ اِن تکالیف کو برداشت کرتے اور جواب میں یہی کہتے کہ میں صداقت کو پہچان کر اُس سے انکار نہیں کر سکتا۔حضرت ابوذرؓ، غفار قبیلہ کے ایک آدمی تھے وہاں اُنہوں نے سنا کہ مکہ میں کسی شخص نے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔وہ تحقیقات کے لئے مکہ آئے تو مکہ والوں نے اُنہیں ورغلایا اور کہا کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) تو ہمارا رشتہ دا رہے۔ہم جانتے ہیںکہ اُس نے ایک دکان کھولی ہے۔مگر ابوذرؓ اپنے ارادہ سے باز نہ آئے اور کئی تدابیر اختیار کر کے آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا پہنچے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تعلیم بتائی اور آپ اسلام لے آئے۔آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی کہ اگر میں کچھ عرصہ تک اپنی قوم کو اپنے اسلام کی خبر نہ دوں توکچھ حرج تو نہیں؟ آپ نے فرمایا اگر چند دن خاموش رہیں تو کوئی حرج نہیں۔اِس اجازت کے ساتھ وہ اپنے قبیلہ کی طرف واپس چلے اور دل میں فیصلہ کر لیا کہ کچھ عرصہ تک میں اپنے حالات کو درست کر لوں گا تو اپنے اسلام کو ظاہر کروں گا۔جب وہ مکہ کی گلیوں میں سے گزررہے تھے تو اُنہوں نے دیکھا کہ رئوسائے مکہ اسلام کے خلاف گالی گلوچ کر رہے ہیں۔کچھ دنوں کے لئے اپنے عقیدہ کو چھپائے رکھنے کا خیال اُن کے دل سے اُسی وقت محو ہوگیا۔اور بے اختیار ہو کر اُنہوں نے اِس مجلس کے سامنے یہ اعلان کیا اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اُس کا کوئی شریک نہیں اورمیں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اُس کے بندے اور رسول ہیں۔دشمنوں کی اِس مجلس میں اِس آواز کا اُٹھنا تھا کہ سب لوگ ان کو مارنے کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے اور اتنا مارا کہ وہ بیہوش ہو کر جاپڑے لیکن پھر بھی ظالموں نے اپنے ہاتھ نہ کھینچے اور مارتے ہی چلے گئے۔اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباسؓ جو اُس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے وہاں آگئے اور اُنہوں نے اِن لوگوں کو سمجھایا کہ ابوذر کے قبیلہ میںسے ہو کر تمہارے غلے کے قافلے آتے ہیں اگر اُس کی قوم کو غصہ آگیا تو مکہ بھوکا مر جائے گا۔اِس پر اُن لوگوں نے اُن کو چھوڑ دیا۔ا بوذرؓ نے ایک دن آرام کیا اور دوسرے دن پھر اُسی مجلس میں پہنچے۔وہاں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف باتیں کرنا