دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 181

ایک نہایت دلیر اور بہادر آدمی تھے اور جن کی بہادری کی وجہ سے شہر کے لوگ اُن سے خائف تھے شکار کھیل کر جنگل سے واپس آئے اور کندھے کے ساتھ کمان لٹکائے ہوئے نہایت ہی تبختر۲۰۵؎ کے ساتھ اپنے گھر میں داخل ہوئے۔لونڈی کا دل صبح کے نظارہ سے بے حد متأثر تھا۔وہ حمزؓہ کو اِس شکل میں دیکھ کر برداشت نہ کرسکی اور انہیں طعنہ دے کر کہا۔تم بڑے بہادر بنے پھرتے ہو، ہر وقت اسلحہ سے مسلح رہتے ہو۔مگر کیا تمہیں معلوم ہے کہ صبح ابوجہل نے تمہارے بھتیجے سے کیاکیا؟ حمزؓہ نے پوچھا کیاکیا؟ اُس نے وہ سب واقعہ حمزؓہ کے سامنے بیان کیا۔حمزہ گو مسلمان نہ تھے مگر دل کے شریف تھے۔اسلام کی باتیں تو سنی ہوئی تھیں اور یقینا اُن کے دل پر ان کا اثر ہو چکا تھا مگر اپنی آزاد زندگی کی وجہ سے سنجیدگی کے ساتھ اُن پر غور کرنے کا موقع نہیں ملا تھا لیکن اِس واقعہ کو سن کر اُن کی رگِ حمیت جوش میں آگئی۔آنکھوں پر سے غفلت کا پردہ دُور ہوگیا اورانہیں یوں معلوم ہوا کہ ایک قیمتی چیز ہاتھوں سے نکلی جارہی ہے۔اُسی وقت گھر سے باہر آئے اور خانہ کعبہ کی طرف گئے جو رؤساء کے مشورے کا مخصوس مقام تھا۔اپنی کمان کندھے سے اُتاری اور زور سے ابوجہل کو ماری اور کہا سنو ! میں بھی محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کے مذہب کو اختیار کرتا ہوں۔تم نے صبح اُسے بِلاوجہ گالیاں دیں اِس لئے کہ وہ آگے سے جواب نہیں دیتا۔اگر بہادر ہو تو اَب میری مار کا جواب دو۔یہ واقعہ ایسا اچانک ہوا کہ ابوجہل بھی گھبراگیا۔اُس کے ساتھی حمزؓہ سے لڑنے کو اُٹھے لیکن حمزؓہ کی بہادری کا خیال کرکے اور اُن کے قومی جتھا پر نظر کرکے ابو جہل نے خیال کیا کہ اگر لڑائی شروع ہوگئی تو اِس کا نتیجہ نہایت خطرناک نکلے گااِس لئے مصلحت سے کام لے کر اُس نے اپنے ساتھیوں کو یہ کہتے ہوئے روک دیا کہ چلو جانے دو میں نے واقعہ میں اِس کے بھتیجے کو بہت بُری طرح گالیاں دی تھیں۔۲۰۶؎ پیغامِ اسلام جب مخالفت تیز ہوگئی اور اِدھر سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ ؓ نے اصرارسے مکہ والوں کو خدا تعالیٰ کا یہ پیغام پہنچانا شروع کیاکہ اس دنیا کا پیدا کرنے والا خدا ایک ہے،اُس کے سِوا کوئی اور معبود نہیں۔جس قدر نبی گذرے ہیں سب ہی اُس کی توحید کا اقرار کیا کرتے تھے اور اپنے ہم قوموں کو بھی اِسی تعلیم کی طرف بلایا