دیباچہ تفسیر القرآن — Page 133
اُٹھا کر دشمن کی طرف پھینکے تھے تو اِن کنکروں کو پھینکنے والا تیرا ہاتھ نہیں تھا بلکہ خدا کا ہاتھ تھا۔اِسی طرح آپ کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے۱۶۰؎ جو تیری بیعت کرتے ہیں وہ اللہ کی بیعت کرتے ہیں۔یعنی توا للہ تعالیٰ کا مظہر ہے۔پس اِس پیشگوئی کے مطابق اگر کوئی شخص ہو سکتا ہے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات ہو سکتی ہے۔پھر لفظ قادر بھی آپ ہی کی ذات پر دلالت کرتا ہے کیونکہ آپ ہی تھے جنہوں نے اپنی زندگی میں ا پنے سارے دشمنوں کو زیر کر لیا اور تمام مخالفتوں اور عداوتوں کا سر کچل دیا۔چوتھا نام ’’ ابدیت کا باپ‘‘ بتایا گیا ہے۔یہ علامت بھی آپ پر ہی چسپاں ہوتی ہے کیونکہ آپ ہی ہیں جنہو ں نے یہ دعویٰ کیا کہ آپ کی تعلیم قیامت تک کے لئے ہے اور یہ کہ جس آنے والے مسیح کی خبر دی گئی ہے وہ بھی آپ کی اُمت کا ایک فرد ہو گا کوئی نیا شخص نہیں ہو گا جس کی وجہ سے آپ کی بادشاہت میں کوئی فرق یا اختلال واقعہ ہو جائے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔۱۶۱؎ یعنی ہم نے تجھے صرف اِس لئے بھیجا ہے تاکہ تمام بنی نوع انسان کو تُو اس طرح جمع کرے کہ اُن میں سے کوئی طبقہ اور کوئی زمانہ تیری تبلیغ سے باہر نہ رہے اور تُو تمام انسانوں کے لئے بشیر اور نذیر کے طور پر کام دے۔لیکن اکثر انسان تیری اِس حیثیت سے واقف نہیں ہیں۔پھر فرماتا ہے دشمن اعتراض کرتے ہیںکہ یہ وعدہ کہ تُو سب دنیا کی طرف اور ہمیشہ کیلئے ہے کس طرح پورا ہو گا۔اگر تم سچے ہو تو اس کی دلیل دو۔اس کا جواب دیتا ہے کہ تُو اُن سے کہہ دے کہ تمہارے لئے ہم ایک مدت مقرر کر چکے ہیں تم نہ اس مدت سے ایک ساعت پیچھے رہ سکتے ہو اور نہ آگے بڑھو گے۔یعنی وہ وعدہ عین وقت پر پورا ہو جائے گا۔یہ مدت وہی ہے جس کا ذکر سورہ سجدہ میں کیا گیا ہے۔سورہ سجدہ میں اللہ فرماتا ہے ۱۶۲؎ اللہ تعالیٰ اسلام کو دنیا میں قائم کرے گا۔پھر اسلام کا زور رفتہ رفتہ کم ہونا شروع ہو گا اور ایک دن میں جس کی لمبائی ایک ہزار