دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 132

کے کاموں میں لگے اُس کا کچھ نہ کچھ ازالہ اِس صدقہ کے ذریعہ سے ہو جائے۔جس شخص سے لوگ اِس کثرت سے مشورہ لیا کرتے تھے کہ اُس کے مشورہ کو ایک مستقل ادارہ قرار دے دیا گیا وہی شخص مشیر کہلانے کا مستحق ہو سکتا ہے۔پھر اِس لئے بھی آپ مشیر کہلانے کے مستحق ہیںکہ آپ نے حکومت کی بنیاد قومی مشوروں پر رکھی۔چنانچہ قرآن کریم میں جو آپ پر نازل ہونے والی وحی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۱۵۶؎ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ کوئی حکومتی کام نہ کریں جب تک کہ وہ ملک کے نمائندوں سے مشورہ نہ لے لیا کریں۔اِس کی تشریح میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لَاخِلَافَۃَ اِلاَّبِالْمَشْوَرَۃِ۱۵۷؎ اسلامی حکومت مشورہ کے بغیر نہیں ہو سکتی۔جو حکومت بھی باشندگانِ ملک کے مشورہ کے بغیر چلائی جائے گی وہ اسلامی نہیں کہلائے گی۔مگر اس کے مقابلہ میں نہ مسیح نے کوئی مشورہ دنیا کو دیا نہ مشورہ کی اہمیت پر زور دیا۔پس یقینا محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ شخص تھے جو مشیر کہلاتے تھے اور مشیر کہلاتے ہیں۔تیسرا نام اُس کا’’خدائے قادر ‘‘ہے۔تورات کی رو سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ سے مشابہت حاصل تھی چنانچہ خروج باب ۷ آیت ۱ میں لکھا ہے:۔’’ پھر خدا وند نے موسیٰ سے کہا دیکھ میں نے تجھے فرعون کے لئے خدا سا بنایا‘‘۔اِسی طرح خروج باب ۴ آیت ۱۶ میں اللہ تعالیٰ حضرت موسٰی ؑکو فرماتا ہے:۔’’ تُو اُس ( یعنی ہارون) کے لئے خدا کی جگہ ہو گا‘‘۔جس طرح مسیحؑ بائبل کے محاورہ کے مطابق ابن اللہ کہلانے کے مستحق ہیں اِسی طرح بائبل کے لحاظ سے حضرت موسیٰ مظہر خدا تھے۔پس جب کبھی خدا کے لفظ سے کسی انسان کی طرف اشارہ کیا جائے گا تو اِس سے مراد یا موسیٰ علیہ السلام ہوں گے یا کوئی مثیل موسٰی ؑہو گا۔اور یہ میں اُوپر بتا آیا ہوں کہ حضر ت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بعد ایک ایسے نبی کے آنے کی خبر دی تھی جو اُن جیسا ہو گا۔۱۵۸؎ اور یہ بھی میں بتا چکا ہوں کہ اس پیشگوئی کی تمام علامتیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صادق آتی ہیں۔پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی خدا یا صحیح لفظوں میں یوں کہو کہ خدا کے مظہر کہلانے کے مستحق تھے۔چنانچہ آپ کے متعلق قرآن کریم میں بھی آتا ہے۔۱۵۹؎ جب بدر کے موقع پر تُو نے کنکر