دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 131

سے ہے اور ہماری نظروں میں عجیب۔اِس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہت تم سے لے لی جائے گی اور ایک قوم کو جو اُس کو میوہ لادے دی جائے گی۔جو اُس پتھر پر گرے گا چور ہو جائے گا پر جس پر وہ گرے گا اُسے پیس ڈالے گا‘‘۔۱۵۴؎ اِس تمثیل کے بیان کرتے وقت حضرت مسیحؑ نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ بیٹے کو صلیب دینے کے بعد خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک اور مأمور ظاہر ہو گا جو کونے کا پتھر کہلائے گا اور وہ مسیح اور تمام باقی لوگوں کی نظروں میں عجیب ہوگا۔پس جب مسیح خود کہتا ہے کہ عجیب وہ شخص کہلائے گا جو بیٹے کو صلیب دئیے جانے کے بعد آئے گا تو یقینا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی عجیب ہیں جو مسیح کے صلیب پانے کے بعد ظاہر ہوئے۔دوسرا نام آنے والے کامشیر رکھا گیا ہے۔یہ نام بھی صرف رسول کریمﷺپر ہی چسپاں ہوتا ہے کیونکہ آپ ہی تھے جن سے ساری قوم مشورہ لیا کرتی تھی اور جنہوں نے اپنی قوم میں مشورے کا رواج ڈالا اور حکومت کے لئے یہ لازمی قرار دیا کہ وہ باشند گانِ ملک کے مشورہ سے ہر ایک کام کیا کرے۔رسول کریم ﷺکے مشوروں کا ذکر قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیت میں آتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۔۱۵۵؎ اے مؤمنو! جب کبھی تم رسول سے مشورہ لیا کرو تو مشورہ لینے سے پہلے غرباء اور مساکین میں تقسیم کرنے کے لئے کچھ صدقہ پیش کیا کرو۔یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر اور پسندیدہ ہو گا لیکن اگر تمہارے پاس کچھ نہ ہو تو پھر اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔اِس صورت میں تم بغیر صدقہ پیش کرنے کے بھی مشورہ لے سکتے ہو۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگ کثرت سے مشورہ لیا کرتے تھے۔یہاں تک کہ اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل وقت تو تمام بنی نوع انسان کا ہے بعض لوگ اپنی خاص ضرورتوں کے لئے آپ کے وقت کو نسبتاً زیادہ استعمال نہ کرنے لگ جائیں یہ قانون مقرر کر دیا گیا کہ جو شخص آپ سے مشورہ لے وہ غریبوں اور مسکینوں کے لئے کچھ صدقہ کی رقم بھی بیت المال میں ادا کرے تاکہ آپ کا وقت جو افراد