دیباچہ تفسیر القرآن — Page 130
’ اور ساری جماعت اُٹھ کے اُسے پیلا طوس کے پاس لے گئی اور اس پر نالش کرنی شروع کی کہ اُسے ہم نے قوم کو بہکاتے اور قیصر کو محصول دینے سے منع کرتے اور اپنے تئیں مسیح بادشاہ کہتے پایا۔تب پیلا طوس نے اُس سے پوچھا کیا تو یہودیوں کا بادشاہ ہے؟ اُس نے اُس کے جواب میں کہا وہی ہے جو تُو کہتا ہے‘‘۔۱۵۲؎ یوحنا باب ۱۸ آیت ۳۷ میں لکھا ہے:۔’’ تب پیلا طوس نے اُسے کہا سو کیا تو بادشاہ ہے؟ یسوع نے جواب دیا کہ جیسا آپ فرماتے ہیں میں بادشاہ ہو ں‘‘۔لیکن رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم باوجود حکومت اور طاقت حاصل ہونے کے بادشاہ کہلانے سے سخت نفرت رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ قیصرو کسریٰ والا رنگ ہم میں نہیں ہونا چاہئے۔اُن کو جب خدا تعالیٰ اقتدار بخشتا ہے تو وہ بنی نوع انسان کو غلام بنانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہمیں خدا تعالیٰ نے خدمت خلق کے لئے پیدا کیا ہے۔پھر لکھاتھا کہ اُس کا نام’’ عجیب ‘‘ہو گا۔حضر ت مسیح خود تسلیم کرتے ہیں کہ یہ عجیب نام پانے والا وہ موعود ہے جواُن کے بعد آئے گا۔چنانچہ انگور ستان کی مثال میں حضرت مسیح کہتے ہیں:۔’’ ایک مالک نے انگور ستان لگایا اور باغبا نوں کے حوالے کر دیا۔پھر مالک نے نوکروں کو اُس کا پھل لانے کے لئے باغبانوں کے پاس بھیجا مگر باغبانوں نے باری باری تمام نوکروں کو مارا پیٹا یا پتھرائو کیا۔اِس کے بعد اور بڑے بڑے نوکر بھیجے گئے مگر اُن کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوا۔پھر اُس نے اپنے بیٹے کو بھیجا مگر بیٹے کو بھی انہوں نے مار ڈالا‘‘۔۱۵۳؎ اِس کے بعد مسیح نے لوگوں سے سوال کیا کہ وہ باغبان جنہوں نے یہ معاملہ کیا بتائو ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ لوگوں نے کہا :۔’’ اِن بدوں کو بُری طرح مار ڈالے گا اور انگور ستان کو اور باغبانوں کو سونپے گا جو اُسے موسم میں میوہ پہنچا ویں۔یسوع نے انہیں کہا کہ کیا تم نے نوشتوں میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو راجگیروں نے ناپسند کیا وہی کونے کا سِرا ہوا۔یہ خدا کی طرف