دیباچہ تفسیر القرآن — Page 100
اِن حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹے اسمٰعیل اور اسحاق تھے۔اسمٰعیل بڑے بیٹے تھے اور اسحاق دوسرے بیٹے تھے خدا تعالیٰ کا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے عہد تھا کہ وہ اُن کی نسل کو بڑھائے گا اور بابرکت کرے گا۔یہ بابرکت کرنے کے الفاظ حضرت اسحاق ؑ کے متعلق بھی ہیں اور حضرت اسماعیل ؑ کے متعلق بھی ہیں۔اِسی طرح نسل کے بڑھانے کے الفاظ بھی حضرت اسحاقؑ کے متعلق بھی ہیں اور حضرت اسماعیل ؑ کے متعلق بھی ہیں اوریہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسمٰعیل فاران کے بیابان میں رہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کنعان کی زمین حضر ت ابراہیم علیہ السلام کی نسل کو دے دی گئی تھی اور پھر یہ بھی کہ خدا تعالیٰ کے اس عہد کی علامت یہ ہوگی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نرینہ نسل کا ختنہ کیا جائے گا۔اِن پیشگوئیوں کے ماتحت ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت اسحاقؑ کی نسل کو بڑی ترقی نصیب ہوئی اور خد اتعالیٰ نے جو عہد حضرت اسحاقؑ سے باندھا تھا وہ بڑی شان سے پورا ہوا۔حضرت موسیٰ اور حضرت دائود اور حضرت حزقیل اور حضرت دانی ایل اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام اُن کی نسل سے ظاہر ہوئے اوردنیا کے لئے بڑی رحمت کا موجب ثابت ہوئے۔کنعان کا ملک دو ہزار سال تک اُن کے قبضہ میں رہا سوائے ایک خفیف وقفہ کے کہ اس وقفہ میں بھی وہ ملک کلی طور پر اُن کے ہاتھ سے نہیں نکلا۔صرف وہ اس میں کمزور ہو گئے تھے۔لیکن ساتویں صدی بعد مسیح میں اسحاق کی اولاد اور موسیٰ کی تعلیم پر ظاہری طور پر چلنے والے لوگوں کو کلی طور پر کنعان کے ملک سے دست بردار ہونا پڑا اور اس ملک میں اسمٰعیل کی اولاد سیاسی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی غالب آگئی۔بنی اسرائیل کا اُس زمانہ میں کنعان سے نکالا جانا صاف بتاتا ہے کہ حضر ت ابراہیم علیہ السلام کی معرفت جو وعدہ کیا گیا تھا اب اُس کے مستحق بنی اسرائیل یا اُن کے متعلق خاندان نہیں رہے تھے مگر خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ میں قیامت تک یہ ملک بنی اسرائیل کے قبضہ میں رکھوں گا اور خدا کی بات جھوٹی نہیں ہو سکتی۔پس صاف ظاہر ہے کہ قیامت کے معنی ظاہری قیامت کے نہیں بلکہ ایک نئی شریعت کے ظہور کے ہیں جو الہامی اصطلاح میں نیا آسمان اور نئی زمین بنانا کہلاتا ہے اور لازماً قیامت کے برپا ہوئے بغیر نیا آسمان اور نئی زمین نہیں بنائے جا سکتے۔پس قیامت تک بنواسحاق کے قبضہ کے یہی معنی تھے کہ جب ایک نیا شرعی نبی آئے گا تو اُس وقت یہ ملک بنو اسحاق