دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 99

برکت بخشوں گا یقینا میں اُسے برکت دوں گا اوروہ قوموں کی ماں ہو گی اورملکوں کے بادشاہ اُس سے پیدا ہوں گے‘‘۔۹۶؎ پھر سارہ کی اولاد کے متعلق لکھا ہے کہ:۔’’ میں اُس سے اور بعد اُس کے اُس کی اولاد سے اپنا عہد جو ہمیشہ کا عہد ہے قائم کروںگا‘‘۔۹۷؎ پھر اسماعیل کے متعلق لکھا ہے:۔’’ اور اسماعیل کے حق میں میَں نے تیری سنی۔۹۸؎ اسماعیل کے حق میں حضرت ابراہیم نے یہ دعا کی تھی کہ:۔’’کاش! کہ اسماعیل تیرے حضور جیتا رہے‘‘۔۹۹؎ ’’دیکھ! میں اُسے برکت دوں گا اور اُسے برو مند کروں گا اور اُسے بہت بڑھائوںگا اور اُس سے ۱۲ سردار پیدا ہوںگے اور میں اُسے بڑی قوم بنائوں گالیکن میں اضحاق کو جس کو سرہ دوسرے سال اُسی وقت معین میں جنے گی اپنا عہد قائم کروںگا‘‘۔۱۰۰؎ پھر لکھا ہے:۔’’ اور اُس لونڈی کے بیٹے سے بھی میں ایک قوم پیدا کروںگا ا س لئے کہ وہ بھی تیری نسل ہے‘‘۔۱۰۱؎ پھر حضرت اسماعیل کے متعلق لکھا ہے۔خدا نے حضرت ہاجرہ کو الہام کیا کہ:۔’’ اس لڑکے کی آواز جہاں وہ پڑا ہے خدا نے سنی۔اُٹھ اور لڑکے کواُٹھا اور اُسے اپنے ہاتھ سے سنبھال کہ میں اُس کو ایک بڑی قوم بنائوں گا‘‘۔۱۰۲؎ پھر لکھا ہے :۔’’ خد ا ا س لڑکے کے ساتھ تھا اور وہ بڑھا اور بیابان میں رہا کیا اور تیر اَنداز ہو گیا اور وہ فاران کے بیابان میں رہا اور اُس کی ماں نے ملک مصر سے ایک عورت اُس سے بیاہنے کو لی‘‘۔۱۰۳؎