دیباچہ تفسیر القرآن — Page 101
کے قبضہ میں نہ رہے گا۔چنانچہ اِس طرف حضرت دائودؑ کے ایک کلام سے اشارہ بھی نکلتا ہے جہاں تورات میں لکھا ہے کہ قیامت تک بنو اسحاق ا س ملک پر قابض رہیں گے وہاں حضرت دائودؑ نے اِس پیشگوئی کو دوسرے الفاظ میں پیش کیا ہے وہ فرماتے ہیں:۔’’ صادق زمین کے وارث ہوںگے اور ابد تک اُس میں بسیں گے‘‘۔۱۰۴؎ اِن الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنواسحاق کی تباہی کا وقت قریب آرہا تھا۔ا ب نبیوں کا کلام دنیا کی توجہ اِس طرف پھر ارہا تھا کہ اب وہ نسلی وعدہ بدل کر روحانی شکل اختیار کرنے والا ہے اور بنو اسمٰعیل راستباز بن کر ابراہیمی پیشگوئیوں کے وارث بننے والے ہیں اور ایک نیا عہداُن کے ذریعہ سے شروع ہونے والا ہے۔ا گر یہ بات نہیں تو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے ماننے والے بنواسمٰعیل کو فلسطین کی زمین میں کیوں غالب کر دیا۔اُس نے تو صاف طور پر عہد کیا تھا کہ فلسطین کی زمین بنو اسحاق کو دی جائے گی۔اگر وہ عہد ایک اور قوم کے ذریعہ سے پورا نہیں ہونا تھا تو یہ تبدیلی خدا تعالیٰ نے کس طرح گوارا کی۔ا گر یہ تبدیلی چند سال کے لئے عارضی طور پر ہوتی تو کوئی بات نہ تھی کیونکہ قومی زندگیوں میںاُتار چڑھائو ہو ہی جایا کرتے ہیں لیکن یہ تبدیلی تو اتنی لمبی چلی کہ آج تیرہ سَو سال کے بعد بھی فلسطین کے اکثر حصہ پر مسلمان اور اسمٰعیل کی اولاد قابض ہیں۔یورپ اور امریکہ زور لگا رہے ہیں کہ کسی طرح اِن حالات کو بدل دیں لیکن اب تک وہ کامیاب نہیں ہوئے اور اگر کوئی کامیابی اُن کو حاصل بھی ہوئی تو وہ عارضی ہو گی یا بنو اسرائیل مسلمان ہو کر نئے عہد کے ذریعہ سے ایک نئی زندگی فلسطین میں پائیں گے اور یا پھر وہ دوبارہ فلسطین میں سے نکال دئیے جائیں گے کیونکہ فلسطین اُن لوگوں کے ہاتھ میں رہے گاجو ابراہیمی عہد کو پورا کرنے والے ہوں گے۔مسیحی لوگ بھی اپنے آپ کو ابراہیمی عہد کا پورا کرنے والا قرار دیتے ہیں لیکن تعجب ہے وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اِس عہد کی علامت ہی یہ ہے کہ وہ قوم ختنہ کروائے گی لیکن عیسائی تو ختنہ سے آزاد ہو چکے ہیں۔ہاں بنو اسمٰعیل جو تیرہ سَو سال سے فلسطین پر قابض ہیں وہ قرآن کریم کے نازل ہونے سے پہلے بھی ختنہ کرواتیتھے اور اب بھی ختنہ کرواتے ہیں۔غرض جیساکہ اِن پیشگویوں میں بتایا گیا تھا کہ اسمٰعیل اور اسحاق دونوں کو برکت دی جائے گی وہ پیشگوئیاں پوری ہونی ضروری تھیں۔بنو اسحاق کو اُن کے وعدہ کے مطابق