صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 157 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 157

161 ظلمت کی دور میں پیدا کیں۔ان کی آپس میں کشمکش شروع ہے یہ کشمکش انسان کے نفس میں بھی جاری ہے اور وسیع پیمانے پر یہ کشمکش ارض و سماء کی وسعتوں میں بھی جاری ہے بعض جگہ ان ارواح کو فرشتے بھی کہا گیا ہے۔ان کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ جب دنیا کا انجام قریب ہوگا تو اللہ تعالیٰ اپنے ایک عظیم الشان رسول کو مبعوث فرمائے گا جس کی قیادت میں ابنائے نور ابنائے ظلمت کے خلاف آخری معرکہ کے لئے نکلیں گے۔اپنائے نور کی مدد اللہ تعالیٰ کریگا اور برائی کی طاقتوں کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا جائے گا۔صحیفہ جنگ میں اس معرکے کا نقشہ نہایت حسین انداز میں کھینچا گیا ہے۔نور کیساتھ تعلق رکھنے والی روح کو دستور العمل میں "روح حق" اور " نور کا شہزادہ بھی کہا گیا ہے۔اس کی مدد کے لئے چار فرشتوں کے نزول کا ذکر بھی صحیفہ جنگ میں ہے۔یہ فرشتے جبرائیل، میکائیل، ساوی ئیل اور رافائیل ہیں۔فرشتوں کے لئے شکرانے کے مناجات میں پاک وجود " کے الفاظ آئے ہیں اور صحیفہ جنگ میں ان کو عظیم الشان اور روحانی قرار دیا گیا ہے۔دیگر صحائف میں ان کو آسمان کے بیٹے آسمانی فوج اور ابدی فوج قرار دیا گیا ہے۔پرانے عہد نامے کے محاورے کے مطابق کئی جگہ ان کو طاقتور، بہادر اور روح کہا گیا ہے۔صحائف میں کئی جگہ " پاک فرشتوں اور سلامتی کے فرشتے کا ذکر ہے۔شکرانے کے مناجات میں ایک فرشتے کو " کلام وو وو دو کر نیوالا ، وسیلہ اور خبریں دینے والا کہا گیا ہے۔ایسینی عقیدہ رکھتے تھے کہ موت کے بعد روح ہمیشہ کے لئے زندہ رہتی ہے اور جسم فنا ہو جاتا ہے۔وہ یوم بعث کے بھی قائل تھے اور یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اس دن روح کو پھر جسم دیا جائے گا۔اور عدالت ہوگی۔اس کے بعد نیک لوگ ابدی جنت اور ختم نہ ہونے والی نعمتوں میں رہیں گے۔اور خدا کی معرفت اور حکمت میں ترقی کرینگے اور رضائے الہی کے مقام میں ہونگے اور گنہگاروں کو ابدی جہنم میں عذاب کا مزہ چکھنا ہوگا۔صحائف میں انسانیت کو اس رنگ میں کہیں بھی گنہ گار قرار نہیں دیا گیا۔جس طرح