صحائف وادئ قمران — Page 158
162 مسیحیوں نے آدم کی غلطی کو ورثے میں چلا کر تمام انسانیت کو گنہگار قرار دے دیا بلکہ اللہ تعالیٰ کی کامل پاکیزگی اور تقدس اور اس کے مقابلہ میں انسانی کمزوری کے پیش نظر انسان کو خطا کار قرار دیا گیا۔لیکن تمام انسانوں کی روحیں ابتداء میں پاک ہوتی ہیں۔پھر ان میں سے بعض برے کام کر کے ابنائے ظلمت میں شامل ہو جاتے ہیں اور بعض نیکیاں بجا لا کر اپنائے نور کی صف میں شامل ہو جاتے ہیں اس پاک روح کو خراب کرنے والوں کو صحیفہ دمشق میں بہت تبدید کی گئی ہے۔ایسینیوں کا عقیدہ تھا کے انسان کی پیدائش سے بھی پہلے اس بات کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ابنائے نور میں شامل ہوگا یا ابنائے ظلمت کا ساتھ دیگا۔نور و ظلمت کی کشمکش ہر وقت انسان کے دل میں جاری رہتی ہے۔لیکن اس کے باوجود ان کا خیال تھا کہ کوئی انسان اس صورت میں شیطان پر فتح پاسکتا ہے کہ شروع میں اس کے لئے ایسا مقدر ہو چکا ہے۔ایسیوں کے ہاں نجات کا مطلب محض عذاب سے رہائی نہیں بلکہ حقیقی نجات گناہ سے بچنے میں ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی انسان کو مدد نہ ملے تو وہ اس مقصد کو پا نہیں سکتا۔ابنائے نور کو نیکی کی توفیق بھی تائید الہی سے ہی ملی ہے۔پس انسان کی سعادت اس میں ہے کہ اس کو نیک کردار عطا کیا جائے نیکیوں کا اصل مقصد اندرونی اور دل کی پاکیزگی ہے۔ظاہری نیک اعمال بھی انسان کو بچا نہیں سکتے جس شخص کو دل کی پاکیزگی حاصل نہ ہو۔اس کے متعلق دستور العمل میں لکھا ہے: "He will not be purified by atonement offerings, and he will not be made clean with water for impurity, he will not sanctify himself with seas and rivers or be made clean with any water for washing۔" دستور العمل (5-iii سطر 25 کالم ii) ترجمہ: اس کو کفارے کی قربانیاں پاک نہیں کر سکتیں اور اس کی غلاظت کو پانی دور نہیں