صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 156 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 156

160 ویرانے میں جا کر ایک نئے عہد کی امید رکھتے تھے جس طرح موسیٰ اور یسوع کی سرکردگی میں بنی اسرائیل نے خدا کی راہ میں جنگ کی اسی طرح وہ بھی آرمجدن کے مقام پر ہونے والے ایک معرکے کی خاطر تیاری کر رہے تھے۔جس طرح اسرائیل میں ابتداء سے انبیاء مبعوث ہوتے آئے تھے۔اسی طرح ایسینیوں میں ان کی رہنمائی کے لئے ایک نیا نبی استاد صادق موجود تھا۔یہی استاد دنیا کے آخر پر پھر مبعوث ہوگا۔اور اسرائیل کے تمام قبائل کو جمع کریگا اور سنہری زمانے کا آغاز کریگا۔(Scriptures of the Dead Sea Sect P۔15) استاد صادق پر خدا کی وحی نازل ہوتی ہے۔اور وہ اس کی روشنی میں اسرار شریعت کو آشکارا کرتا ہے۔اس کی تربیت کا نتیجہ تھا کہ ایسینیوں کے دلوں سے، جب دنیا سرد ہو کر رہ گئی تو وہ ہر قسم کی تکالیف کو بطیب خاطر برداشت کرتے تھے اور ہر قسم کی قربانیاں خدا کی راہ میں دینے کے لئے جان و مال کی پرواہ نہ کرتے تھے۔کائنات کے متعلق ایسینیوں کے عقیدے میں بھی عظمت الہی کا اظہار مدنظر ہے ان کے ہاں شرک کا شائبہ تک نہ تھا۔اگر چہ ان کے ہاں ابنائے نور اور ابنائے ظلمت کا تصور پایا جاتا ہے۔مگر یہ سب چیزیں واحد خدا کے عقیدے کے تابع تھیں جو کائنات کا خالق و مالک ہے وہی پیدا کرتا ہے اور مارتا ہے۔جو بھی کام دنیا میں ہورہے ہیں ان سب کے لئے وہی علت العلل ہے۔شکرانے کے مناجات کے صحیفہ کے آخر میں نئی زمین اور نئے آسمان کی تخلیق کا ذکر ہے۔ان کی کائنات میں دلچسپی اس بات سے بھی ظاہر ہے کہ حنوک کی کتاب کے کئی نسخے ان کے ہاں ملے ہیں۔محققین کا خیال ہے کہ یہ وہ تعلیم تھی جس کے متعلق ان سے قسم کی جاتی تھی کہ جماعت کے باہر بیان نہ کرینگے۔غار نمبر 4 سے ایک صحیفہ ملا ہے جو بہت سے رسم الخط ملا کر لکھا گیا ہے۔اس میں کائنات کے موضوع پر بحث کی گئی ہے۔ایسینیوں میں نور اور ظلمت کی روح کا تصور پایا جاتا ہے محققین کا خیال ہے کہ یہ ایران کے زرتشی مذہب کے اثر کا نتیجہ تھا۔ان کا خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابتداء سے نور اور