صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 62 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 62

64 کتب میں سے صرف آٹھ کتب ایسی ہیں جو بعض انبیاء یا دیگر بزرگوں کی طرف منسوب ہیں۔اور اکتیس کتب کے مصنفین بالاتفاق نامعلوم ہیں۔جن کے کردار، امانت اور دینداری کے متعلق ہمیں کچھ علم نہیں۔ان میں سے اکثر ایسے اشخاص ہیں جن کے متعلق اتنا بھی سراغ نہیں لگ سکا کہ وہ کب پیدا ہوئے اور کہاں رہے۔قضات کی کتاب کے متعلق بعض کا خیال ہے۔کسی نامعلوم مصنف کی تحریر ہے۔لیکن بعض اسے سموئیل کی طرف منسوب کرتے ہیں لے تو راؤ اور دیگر آٹھ کتب جو کسی نبی یا بزرگ کی طرف منسوب ہیں ان میں اندرونی طور پر متعدد شہادتیں اس امر کو باطل کرتی ہیں کہ وہ واقعی انہوں نے لکھی ہیں اور جدید تحقیق نے روز روشن کی طرح ثابت کر دیا ہے۔کہ کسی بھی اسرائیلی نبی نے عہد عتیق میں شامل کوئی کتاب نہیں لکھی۔نہ ہی اس کی راہنمائی میں لکھی گئی۔بلکہ تمام کتب غیر معروف مصنفین نے بعد میں لکھ کر ان کو انبیاء کی طرف منسوب کر دیا۔یہ کتب چونکہ خطاء کے پہلے انسانوں کے ہاتھوں کی تصانیف تھیں ان میں بار بار اصلاح کی ضرورت پیش آتی رہی۔جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ ہر کتاب کے کئی متن یہود میں شائع و متعارف ہو گئے۔حضرت مسیح علیہ السلام سے قبل اور آپ کے زمانے میں بھی عہد عتیق کے متعد دمتون مروج تھے۔مسیح علیہ السلام کی بعثت کے ساتھ ہی قوم یہود میں جو بالکل مر چکی تھی نئے سرے سے زندگی کی روح پھونکی گئی۔اور ان میں یہ خیال پیدا ہوا کہ عہد عتیق کا ایسا متن تیار کیا جائے جس پر تمام قوم متفق ہو۔چنانچہ مختلف مکاتب فکر سے متعلق رہیوں کا ایک اجلاس بلایا گیا۔مشہور امریکی صحافی ایڈ منڈ ولسن لکھتا ہے۔"The mesoretic text of the Bible, which was established at an unknown date by a committea of rabbinied schoars who did their best to any other text which has since been accepted by the Orthodox Synagogue as the unalterable and کلام مقدس مطبوعہ سوسائٹی آف سینٹ پال رو پا 1958ء