صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 149 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 149

153 dated in the first quarter of the first century B۔C, and one papyrus copy in a prto cwsive script which while more difficult to date, is earlier still۔" ترجمہ: جبکہ بائیبل سے تعلق رکھنے والے مسودات تیسری صدی قبل مسیح کے آخر سے لے کر پہلی صدی کے نصف تک کے زمانے پر پھیلے ہوئے ہیں۔فرقے سے متعلق تصانیف کی وسیع تعداد میں نقول ہسمونی اور ہیرودیس کے عہد میں تیار ہوئیں۔جماعت کے دستور کے ابتدائی مسودات میں دو نقول شامل ہیں۔جن کے زمانہ تحریر کا بہترین انداز پہلی صدی قبل مسیح کا ربع اول ہے۔اور ایک نقل جو پاپکرس پر ہے۔اور ابتدائی شکتہ تحریر میں ہے۔اس کے زمانہ تحریر کی تعین زیادہ مشکل ہے۔وہ ان سے بھی زیادہ پرانا ہے۔( The Ancient library of (Qumran P۔89 صحیفه یسعیاہ کی موجودہ نقل جس زمانے میں تیار ہوئی اس کے متعلق امریکی صحافی ایڈمنڈ ولسن لکھتے ہیں : "This fits in with the date assigned by Albright who arguing from palaeographical evidence, immediately put the Isiah scroll at about 100 B۔C۔" (The Dead Sea Scrolls P۔54) ترجمہ : ”یہ اس زمانے کے مطابق ہے جو آثار قدیمہ کی شہادت سے دلیل پکڑتے ہوئے البرائٹ نے متعین کی۔اس نے فوراً ہی صحیفہ دمشق کے لئے 100 قبل مسیح کا زمانہ متعین کیا جوبلی ، حنوک ، بارہ بزرگ انا جیل اور استقبال موسیٰ کے زمانہ کے متعلق ولسن لکھتا ہے۔" '۔۔۔R۔H۔Charles and C۔C۔Torrey are agreed that these writings were produced, in their present form chronologically in the order named between the second half of the second century B۔C۔and the early years of the first century A۔D۔" (The dead sea scrolls P۔57)