صحائف وادئ قمران — Page 150
154 ترجمہ آر ایچ چارلس اور سی سی تارے کا اسی بات پر اتفاق ہے کہ یہ تحریرات موجودہ شکل میں اسی ترتیب زمانی سے جس میں ان کے نام وغیرہ درج ہیں دوسری صدی قبل مسیح کے نصف ثانی سے لے کر پہلی صدی عیسوی کے ابتدائی سالوں تک کے عرصہ میں تیار ہوئیں۔"The biblical scrolls from Quran span in date about three centuries۔A few archail specimens carry us back to the end of the third century, as we have seen۔The heavy majority how ever, date in the first century B۔C۔and in the first Christian century the series terminating with the death of the community centre in A۔D۔68۔" (The ancient library of Qumran P۔34) آثار قدیمہ غار نمبر 1 کی کھدائی سے پچاس ظروف اور ان کے ڈھکنوں کے علاوہ کپڑے کے کچھ ٹکڑے بھی ملے۔یہ ظروف دو قسم کے ہیں۔کچھ یونانی طور کے ہیں۔ان میں پچاس ظروف ان کے ڈھکنے اور دو چراغ ہیں۔اسی قسم کا ایک جار خربت قمران کی کھدائی سے بالکل صحیح حالت میں حاصل ہوا ہے۔یہ پہلی صدی قبل مسیح سے تعلق رکھتے ہیں۔دوسری قسم کے ظروف میں دو چراغوں کے ٹکڑے اور ایک رومی عہد کا برتن ہے۔انہیں تیسری صدی عیسوی کا قرار دیا گیا ہے۔غار سے ملنے والے کپڑے کے معائنے سے معلوم ہوا کہ وہ مقامی کتان کا بنا ہوا ہے۔فلسطین میں دوسری صدی قبل مسیح سے لے کر دوسری صدی عیسوی تک کے عرصے میں اسی کے تاگوں سے اس قسم کا کپڑا بنا جاتا تھا۔یہ کپڑا بھی مقامی طور پر بنا ہوا ہے اور اسی زمانہ سے تعلق رکھتا ہے۔طبیعیات جدید خوش قسمتی سے جس زمانے میں صحائف دریافت ہوئے ان دنوں علم الطبعیات موجودہ ایٹمی دور میں داخل ہو چکا تھا۔اس نے صحائف کے زمانے کی تعین میں