دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ — Page 24
24 ان کے نظمندوں کو سفیہ قرار دیا ہے اور ان کے بزرگوں کو شر البر یہ کہا اور اُن کے قابل تعظیم معبودوں کا نام ہیزم جہنم اور وقو د النار رکھا اور عام طور پران سب کو رجس اور ذریت شیطان اور پلید ٹھہرایا میں تجھے خیر خواہی کی راہ سے کہتا ہوں کہ اپنی زبان کو تھام اور دشنام دہی سے باز آجاور نہ میں قوم کے مقابلے کی طاقت نہیں رکھتا۔آنحضرت ﷺ نے جواب میں کہا کہ اے چا یہ دشنام دہی نہیں ہے بلکہ اظہار واقعہ اور نفس الامر کا عین محل پر بیان ہے اور یہی تو کام ہے جس کے لئے میں بھیجا گیا ہوں اگر اس سے مجھے مرنا در پیش ہے تو میں بخوشی اپنے لئے اس موت کو قبول کرتا ہوں۔میری زندگی اسی راہ میں وقف ہے میں موت کے ڈر سے اظہار حق سے رک نہیں سکتا۔اور اے چا! اگر تجھے اپنی کمزوری اور اپنی تکلیف کا خیال ہے تو تو مجھے پناہ میں رکھنے سے دست بردار ہو جا۔بخدا مجھے تیری کچھ بھی حاجت نہیں میں احکام الہی کے پہنچانے سے کبھی نہیں رکوں گا مجھے اپنے مولی کے احکام جان سے زیادہ عزیز ہیں بخدا اگر میں اس راہ میں مارا جاؤں تو چاہتا ہوں کہ پھر بار بار زندہ ہو کر ہمیشہ اسی راہ میں مرتا رہوں۔یہ خوف کی جگہ نہیں۔بلکہ مجھے اس میں بے انتہا لذت ہے کہ اس کی راہ میں دُکھ اُٹھاؤں۔آنحضرت علی یہ تقریر کر رہے تھے اور چہرہ پر سچائی اور نورانیت سے بھری ہوئی رقت نمایاں ہو رہی تھی۔اور جب آنحضرت یہ تقریر ختم کر چکے تو حق کی روشنی دیکھ کر بے اختیار ابو طالب کے آنسو جاری ہو گئے اور کہا کہ