دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ — Page 25
25 میں تیری اس اعلیٰ حالت سے بے خبر تھا تو اور ہی رنگ میں اور اور ہی شان میں ہے جا اپنے کام میں لگارہ جب تک میں زندہ ہوں جہاں تک میری طاقت ہے میں تیرا ساتھ دوں گا۔(ازالہ اوہام صفحه ۱۶ تا ۱۸ روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۱۱۱۱) قریش اس کوشش میں بھی ناکام رہے مگر مخالفت سے باز نہ آئے۔ایک اور ترکیب سوچی اور وہ یہ کہ ایک اعلیٰ قریش خاندان کے ہونہار نوجوان عمارہ بن ولید کو ساتھ لے کر ابو طالب کے پاس گئے اور کہنے لگے "ہم عمارہ بن ولید کو اپنے ساتھ لائے ہیں اور تم جانتے ہو کہ یہ قریش کے بہترین نو جوانوں میں سے ہے پس تم ایسا کرو کہ محمد کے عوض میں تم اس لڑکے کو لے لو اور اس سے جس طرح چاہے فائدہ اُٹھاؤ اور چاہو تو اسے اپنا بیٹا بنا لو ہم اس کے حقوق سے کلیۂ دستبردار ہوتے ہیں اور اس کے عوض تم محمد کو ہمارے سپرد کر دو جس نے ہمارے آبائی دین میں رخنہ پیدا کر کے ہماری قوم میں ایک فتنہ کھڑا کر رکھا ہے۔اس طرح جان کے بدلے جان کا قانون پورا ہو جائے گا اور تمہیں کوئی شکایت نہیں ہوگی۔ابو طالب نے کہا یہ عجیب انصاف ہے کہ میں تمہارے بیٹے کو اپنا بیٹا بناؤں اور اُسے کھلاؤں اور پلاؤں اور اپنا بیٹا تمہیں دے دوں کہ تم اسے قتل کر دو۔واللہ یہ کبھی نہیں ہو گا۔ابن ہشام ، طبرنی، سیرۃ خاتم النبین صفحہ ۱۳۸) قریش کو پھر نا کام لوٹنا پڑا مگر اب اُن کے ارادے یہ تھے کہ اب جو کچھ ہو سو ہو ا بو طالب تو کسی صورت مانتے نہیں۔ہم کو جو بھی کرنا پڑا کر گزریں گے۔کفار مکہ نے ظلم کرنے میں اضافہ کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے پیار اور مستقبل کی کامیابیوں کی خوشخبریوں میں اضافہ کر دیا۔یہاں ہم شوال پانچ نبوی سے پہلے کا ایک بہت بڑا واقعہ پڑھتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و احسان کا واقعہ ہے۔تفسیر کبیر جلد چهارم صفحه ۲۸۳