دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ

by Other Authors

Page 23 of 39

دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ — Page 23

23 تکلیف کا احساس ہے تو بے شک مجھے اپنی پناہ میں رکھنے سے دستبردار ہو جائیں میں خدا تعالیٰ کی توحید کی اشاعت سے کسی صورت میں بھی نہیں رُک سکتا۔میں اس کام میں مشغول رہوں گا۔یہاں تک کہ خدا مجھے موت دے دے۔حضرت رسول کریم ﷺ کے اس جواب کا ابو طالب پر اتنا اثر ہوا کہ انہوں نے کہا اے میرے بھتیجے! تو اپنے کام میں مشغول رہ اگر قوم مجھے چھوڑ نا چاہتی ہے تو بے شک چھوڑ دے میں تجھے کبھی نہیں چھوڑ سکتا۔(سیرت ابن ہشام جلد اول صفحه (۸۸) تفسیر کبیر جلد پنجم صفحه ۴۲۶ ، ۴۲۷ یہ واقعہ اتنا اہم اور عظیم الشان ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہا ما سارا واقعہ اور گفتگو بتائی آپ فرماتے ہیں۔یہ سب مضمون ابو طالب کے قصے کا اگر چہ کتابوں میں درج ہے مگر یہ تمام عبارت الہامی ہے جو خدا تعالیٰ نے اس عاجز کے دل پر نازل کی صرف کوئی کوئی فقرہ تشریح کے لئے اس عاجز کی طرف سے ہے"۔(ازالہ اوہام صفحه ۱۹۱۸ روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۱۲۱۱۱) آیئے ہم اس واقعہ کو الہامی عبارت میں پڑھیں۔تذکرہ صفحہ ۴ ۷ اپر تحریر ہے۔جب یہ آیتیں اُتریں کہ مشرکین رجس ہیں، پلید ہیں، شر البریہ ہیں سفباء ہیں اور ذریت شیطان ہیں اور اُن کے معبود وقود النار اور حصب جہنم ہیں تو ابو طالب نے آنحضرت مہ کو بلا کر کہا کہ اے میرے بھتیجے! اب تیری دُشنام دہی سے قوم سخت مشتعل ہوگئی ہے۔اور قریب ہے کہ تجھ کو ہلاک کریں اور ساتھ ہی مجھ کو بھی تو نے