دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 397

دعوت الامیر — Page 25

(ro) دعوة الامي حضرت ابوبکر سمجھ گئے کہ کیا معاملہ ہے اور ان صحابی سے پوچھا کہ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں، انہوں نے جواب دیا کہ حضرت عمر کہتے ہیں کہ جو شخص کہے گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں میں اس کی گردن تلوار سے اڑا دوں گا ، اس پر آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر تشریف لے گئے۔آپ سنی اسلام کے جسم مبارک پر جو چادر پڑی تھی اُسے ہٹا کر دیکھا اور معلوم کیا کہ آپ فی الواقع فوت ہو چکے ہیں، اپنے محبوب کی جدائی کے صدمے سے اُن کے آنسو جاری ہو گئے اور نیچے جھک کر آپ کی پیشانی پر بوسہ دیا اور کہا کہ بخدا اللہ تعالیٰ تجھ پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا۔تیری موت سے دنیا کو وہ نقصان پہنچا ہے جو کسی نبی کی موت سے نہیں پہنچا تھا، تیری ذات صفت سے بالا ہے اور تیری شان وہ ہے کہ کوئی ماتم تیری جدائی کے صدمے کو کم نہیں کر سکتا اگر تیری موت کا روکنا ہماری طاقت میں ہوتا تو ہم سب اپنی جانیں دے کر تیری موت کو روک دیتے۔یہ کہہ کر کپڑا پھر آپ کے اوپر ڈال دیا اور اس جگہ کی طرف آئے جہاں حضرت عمر صحابہ کا حلقہ بنائے بیٹھے تھے اور اُن سے کہہ رہے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم فوت نہیں ہوئے بلکہ زندہ ہیں وہاں آکر آپ نے حضرت عمرؓ سے کہا۔آپ ذرا چپ ہو جائیں مگر انہوں نے ان کی بات نہ مانی اور اپنی بات کرتے رہے۔اس پر حضرت ابوبکر نے ایک طرف ہو کر لوگوں سے کہنا شروع کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم در حقیقت فوت ہو چکے ہیں۔صحابہ کرام حضرت عمر کو چھوڑ کر آپ کے گرد جمع ہو گئے اور بالآخر حضرت عمر کو بھی آپ کی بات سننی پڑی ، آپ نے فرمایا: وَمَامُحَمَّدْ إِلَّا رَسُوْلَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ = الرُّسُلُ آفَائِنْ مَاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ (ال عمران آیت:۱۴۵) إِنَّكَ مَيِّتُ وَإِنَّهُمْ مَّتِتُونَ (الزمر آيت : ۳۱) يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ ย